ایلون مسک اور ٹرمپ کی دوستی دشمنی میں بدل گئی، سخت الزامات
اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 06 جون2025ء)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کے درمیان لفظوں کی گولہ باری نے ٹیسلا کمپنی کے شئیر سترہ اعشاریہ چھ فیصد تک گرادئیے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایلون مسک اور امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوستی ختم ہوتے ہی دشمنی میں بدل گئی ہے اور دونوں میں ایک دوسرے پر سنگین الزامات کا تبادلہ ہوا ہے۔
(جاری ہے)
ٹیسلا کے بانی نے الزام عائد کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام جنسی اسکینڈلز میں بدنام ایپسٹین کی فائلوں میں موجود ہے، جیفری ایپسٹین کمسنوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے کئی واقعات میں ملوث قرار دیا گیا تھا اور اس نے سن 2019 میں وہ پراسرار طور پر جیل میں مردہ پایا گیا تھا۔ایلون مسک نے کہا کہ ایپسٹین کی فائل میں ڈونلڈ ٹرمپ کا نام ہونے کی وجہ سے یہ دستاویز سامنے نہیں لائی جارہی۔ایلون مسک نے کہا کہ لکھ کر رکھ لیں، حقیقت سامنے آکر رہے گی۔ مسک نے مطالبہ کیا کہ صدر کا مواخذہ کرکے جے ڈی وینس کو امریکی صدر بنایا جانا چاہیے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ڈونلڈ ٹرمپ ایلون مسک
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔