Express News:
2026-07-24@10:59:36 GMT

ایک افریقی سیاسی راک اسٹار کی تقریر (حصہ دوم)

اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT

گزشتہ بار افریقی نوجوانوں میں مقبول گنی بساؤ کے صدر کیپٹن ابراہیم ترورے کی سوشل میڈیا پر وائرل تقریر کا پہلا حصہ پیش کیا گیا۔یہ دوسرا حصہ پڑھیے اور اگلی بار تیسرا اور آخری حصہ۔

میرے افریقیو ،

گھانا تا زیمبیا اور سینیگال تا کینیا ایک ہی ڈرامہ چل رہا ہے۔حکومتوں کو پانی کی نجکاری پر مجبور کیا جاتا ہے تاکہ غیر ملکی کمپنیاں منافع کما سکیں۔سستی درآمدات کے ذریعے کسانوں کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔مقامی صنعتوں پر پھلنے سے پہلے ہی قاتلانہ حملہ ہو جاتا ہے۔مشورہ دیا جاتا ہے کہ بجٹ کو متوازن بنانے کے لیے ترقیاتی بجٹ کم کریں تاکہ غیر ملکی قرضوں کی ادائی بروقت ہو سکے۔

عجیب بات ہے کہ یہ ادائی وقت کے ساتھ ساتھ کم ہونے کے بجائے بڑھتی جا رہی ہے۔اگر ہم اس کے خلاف مزاحمت کی جرات کریں ، آپ کے تجویز کردہ نسخوں پر سوال اٹھائیں یا تجاویز نہ مانیں تو ہم بلیک لسٹ ہو جاتے ہیں ، ہماری کریڈٹ ریٹنگ نیچے آ جاتی ہے ، ہماری کرنسی کی قدر پر حملہ ہوتا ہے اور ہمارے رہنماؤں کو نام نہاد بین الاقوامی میڈیا انتہا پسند ، سنکی اور پاپولسٹ قرار دے کر مطعون کرتا ہے۔

اس سے بڑی انتہاپسندی کیا ہوگی کہ ایک ملک کو مجبور کیا جائے کہ وہ اپنے عوام کا پیٹ بھرنے سے پہلے قرض کا سود چکانے کی فکر کرے۔ چنانچہ ہماری نئی نسل کا اپنے روزگاری مستقبل اور سیاست پر سے ایمان اٹھتا جا رہا ہے کیونکہ ان کی قیادت عوام کو جواب دینے سے پہلے بینکوں کو جوابدہ ہے۔

سچی بات یہ ہے کہ آپ ہمارے خوابوں کو بھی ویٹو کرتے ہو۔آپ افریقی پالیسی بنانے والے غیر منتخب گورنر ہو۔ ہم کب تک برداشت کریں کہ ہمیں ہی دیے گئے قرضوں سے بھاری مشاہرہ پانے والے بین الاقوامی مشیر ہماری پالیسیاں بنائیں جب کہ ہمارے اساتذہ کو تنخواہ کے لالے پڑے ہوں۔ہم ان اداروں کے آگے مزید کیوں جھکیں جو ہمارے شہریوں کے بجائے اپنے شیئر ہولڈرز کو جوابدہ ہوں۔

میں آئی ایم ایف سے صاف صاف کہنا چاہتا ہوں کہ ہم اپنا اقتدارِ اعلیٰ واپس لینا چاہتے ہیں بھلے اس کا مطلب آپ کے قرضوں کے بغیر ہماری شرح ترقی میں سست رفتار اضافہ کی کیوں نہ ہو۔مگر تب یہ ہماری شرحِ ترقی ہو گی۔وقتی تکلیف تو ہو گی مگر یہ آزاد ہونے کا درد ہو گا۔افریقہ کو آقا نہیں شراکت دار چاہئیں۔

ہم اس نظام میں پیدا ہوئے ہیں جو ہم نے نہیں بنایا۔یہ نظام معاہدوں ، من مانے قوانین اور اداروں کا جال ہے۔جب نوآبادکار رخصت ہوئے تو اپنے پیچھے شفافیت کے بجائے ایسا نظام چھوڑ گئے جو انھیں مسلسل فائدہ پہنچاتا رہے۔

مسئلہ صرف آئی ایم ایف میں اصلاحات کا نہیں بلکہ تجارتی ، مالیاتی ، قرضہ جاتی قوانین کے ڈھانچے میں سدھار کا ہے۔موجودہ مالیاتی ڈھانچہ خدائی یا فطری منصوبہ نہیں بلکہ طاقتور انسانوں کا مسلط کردہ ہے۔ وہی طاقت ور تعین کرتے ہیں کہ کس شے کی کیا قیمت ہو اور کسے ملنی چاہیے۔

کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ ایسا براعظم جس کی ساٹھ فیصد زمین زرخیز ہے اب تک خوراک میں خود کفیل کیوں نہیں ؟ ہم سونے ، ہیروں ، تیل اور لیتھیم کے ذخائر پر بیٹھنے کے باوجود بھی محتاج کیوں ہیں ؟ کیونکہ کھیل کبھی شفاف نہیں تھا۔

ہمیں صنعتی مصنوعات بنانے کے بجائے خام مال پیدا کرنے والے خطے میں تبدیل کر دیا گیا۔ہمیں عالمی معیشت میں ایک مخصوص کردار دیا گیا جیسے کسی المیہ کھیل میں اداکار کو دیا جاتا ہے۔یعنی تم صرف اگاؤ گے ، پروسیسنگ ہم کریں گے ، تم ہاتھ پھیلاؤ گے ہم قرضہ دیں گے۔جب بھی ہم اس کھیل کا اسکرپٹ دوبارہ لکھنے کی کوشش کرتے ہیں تو جرمانہ بھرنا پڑتا ہے ، کریڈٹ ایجنسیز ہماری ریٹنگز گھٹا دیتی ہیں ، ملٹی نیشنل کمپنیوں کی لابی پابندیوں کی دھمکی دیتی ہے ، ہائی ٹیک کمپنیاں اپنا سرمایہ نکال لیتی ہیں۔آپ کا میڈیا ہمیں پاگل کہتا ہے۔

مگر اس سے زیادہ غیر مستحکم دنیا اور کیا ہو گی کہ ایک اعشاریہ چار ارب انسانوں کا براعظم ماحولیات کی ابتری میں سب سے کم اور اس کے نقصانات میں سب سے زیادہ حصہ دار ہے۔اس سے زیادہ غیر منطقی کیا ہو گا کہ پوری دنیا کے لیے کوکا اگانے والے کسان خود اپنے بچوں کے لیے چاکلیٹ خریدنے کی سکت نہیں رکھتے۔اس سے بڑی ناانصافی کیا ہو گی کہ جن ممالک نے ہمیں ماضی میں نوآبادی بنایا آج وہی ہمیں گڈ گورننس کا لیکچر دے رہے ہیں اور دوسری جانب افریقی اشرافیہ کی چرائی ہوئی دولت بنا کوئی سوال پوچھے اپنے بینکوں میں رکھ رہے ہیں۔اور وہ اس نظام کو میریٹوکریسی بھی کہتے ہیں۔

وہ ہم سے کہتے ہیں محنت کرو ، شفاف بنو اور مزید سرمایہ کاری کے مواقع بڑھاؤ۔مگر وہ یہ نہیں بتاتے کہ عالمی تجارتی قوانین کبھی بھی شفاف نہیں رہے۔ عالمی ادارہِ تجارت ( ڈبلیو ٹی او ) عالمی بینک اور آئی ایم ایف جیسے ریفریز انھیں ٹیموں کے طرف دار ہیں جو ہمیشہ جیتتی ہیں۔

مثلاً جب ہم نے اپنے کسانوں کو سبسڈی دینے کی کوشش کی تو ہمیں کہا گیا کہ اس سے کھلی مارکیٹ پر منفی اثر پڑے گا۔مگر امریکا اور یورپ اپنے کسانوں کو اربوں ڈالر کی سبسڈی دے رہے ہیں اور اسے تحفظ کا نام دیتے ہیں۔جب ہم نے روزگار پیدا کرنے کے لیے سرکاری شعبے میں صنعتیں لگانے کی کوشش کی تو ہمیں بتایا گیا کہ اس سے معاشی جمود بڑھے گا۔جب کہ ان کی امیر ترین نجی کارپوریشنز سرکاری پیسے سے چلنے والے ناسا ، سرکاری جنگوں ، سرکاری ٹھیکوں اور سرکاری ریسرچ اداروں کی تحقیق سے پورا تجارتی فائدہ اٹھا رہی ہیں۔جب ہم کانکنی کے استحصالی معاہدوں پر نظرِ ثانی کی بات کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ ہم کاروبار دشمن ہیں۔مگر اس سے بڑی دشمنی کیا ہو گی کہ آپ سو ڈالر مالیت کی معدنیات نکالیں اور ہمیں تین ڈالر رائلٹی دے کر چلتے بنیں۔

افریقہ آپ سے رحم کھانے کو نہیں کہہ رہا۔ہم صرف شفافیت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ہم خیراتی اترن نہیں برابری چاہتے ہیں۔ہم اس کرہِ ارض کا سب سے توانا براعظم ہیں۔مگر عالمی معیشت ہم سے ایسا سلوک کر رہی ہے جیسے ہمارے پاس دینے کو کچھ نہیں۔ ہمارے مزدور ، ہماری زمین ، ہماری اقدار ناقص نہیں بلکہ نظام ناقص ہے۔ہم آپ سے تعلق نہیں توڑنا چاہتے مگر مزید زنجیریں پہننے کو تیار نہیں۔

ہم سنکارا ، نکروما ، لوممبا اور منڈیلا کے بچے ہیں۔ محض زندہ رہنا نہیں چاہتے بلکہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا چاہتے ہیں۔۔اس کے لیے اب ہمیں کسی کی اجازت اور افریقہ کو اب کوئی نیا نجات دھندہ یا تازہ لیکچر یا جکڑبند قرضہ نہیں چاہیے۔ہم خود کو تمہارے برابر تسلیم کروانے کے لیے خوشامد نہیں کریں گے۔ہم شراکت داری کے خلاف نہیں مگر ہم اس کی شرائط ازسرِنو ترتیب دینا چاہتے ہیں۔

کوئی ملک بااختیار نہیں کہلا سکتا اگر اپنے لوگوں کا پیٹ نہ بھر سکے۔ہم کیسے آزاد کہلا سکتے ہیں جب کسی جگہ پڑنے والا قحط ہماری روٹی کی قیمت طے کرے۔نوآبادیاتی نظام نے جو سب سے خطرناک ترکہ چھوڑا وہ بندوق نہیں بلکہ سلیبس ہے۔ایسا نصاب جو ہمیں غیر ملکی بادشاہوں کے بارے میں تو خوب بتاتا ہے مگر ہمارے ہیروز کو نظرانداز کرتا ہے۔نصاب میں غیر ملکی فلسفیوں کی تعریف ہے مگر افریقی دانش کا ذکر غائب ہے۔

ہمیں تعلیمی سلیبس دوبارہ مرتب کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے بچے اپنی قدر و قیمت سے آگاہ ہو سکیں۔اپنی تاریخ پر فخر کر سکیں اور اعتماد کے ساتھ تخلیقی قوت استعمال کر سکیں۔بچوں کو کوڈنگ ضرور سکھائیں مگر علمِ زراعت بھی پڑھائیں۔ہمارے اسکول آزادی کی لیبارٹری ہونے چاہئیں۔ تعلیم محض امتحان میں کامیابی تک محدود نہ ہو بلکہ اپنی قسمت خود تعمیر کرنے کے قابل بنا سکے۔

ہمارا جو خام مال باہر جاتا ہے وہی خام مال کھلی تیار مصنوعات کی شکل میں دس گنا قیمت پر ہمیں لوٹایا جاتا ہے۔ہمیں مقامی صنعت کاری اور ایجاد پسندی کی جانب آنا ہو گا۔صرف معدنیات کی ملکیت کافی نہیں۔منافع کمانے کے لیے ہمیں دھاتوں کی ریفائننگ اور پیکیجنگ کی اپنی صنعت چاہیے۔ہمیں افریقی سرمایہ کاری اور نوزائیدہ صنعتوں کو تحفظ دینا ہو گا اور غیرضروری اشیا کی درآمدی عادت کو کم کرنا ہو گا۔یہی ایک طریقہ ہے روزگار پیدا کرنے اور افریقہ کی دولت افریقیوں کے لیے استعمال کرنے کا۔

منقسم افریقہ ہمیشہ کمزور رہے گا۔ہم چون ممالک الگ الگ آوازوں کی شکل میں دنیا سے اجتماعی سودے بازی نہیں کر سکتے۔ہمیں سیاسی ، اقتصادی ، دفاعی اور سائنسی تعاون کے لیے متحد ہونا پڑے گا۔اس کے لیے بین ال افریقہ ادارہ سازی کرنا ہو گی۔ہم تب تک آزاد نہیں ہو سکتے جب تک مقامی دانش پر بھروسہ کرنا نہیں سیکھیں گے۔  (جاری ہے)

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.

com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نہیں بلکہ چاہتے ہیں کے بجائے غیر ملکی جاتا ہے رہے ہیں کے لیے کیا ہو

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • وزیراعظم نے لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی
  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں تیز، نواز شریف آج میرپور میں جلسے سے خطاب کریں گے
  • لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی
  • پاک فوج کے چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دیدی گئی
  • وزیراعظم نے لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دیدی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی