فوٹو اسکرین گریپ 

لانڈھی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون کی 2 فیکٹریوں میں آگ بدستور لگی ہوئی ہے جبکہ 2 پر قابو پالیا گیا ہے۔

جن فیکٹریوں میں آگ لگی ہوئی ہے انھیں خطرناک قرار دیا جاچکا ہے جبکہ فائر فائٹرز کو 20 گھنٹے کا وقت گزرنے کے باوجود عمارت کے اندر جانے کا موقع نہیں مل سکا۔

مالاکنڈ، باٹا پہاڑی جنگل میں دو روز سے لگی آگ مزید پھیل گئی

جنگل میں تیز ہواؤں اور دشوار راستوں کے باعث آگ پر قابو پانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

لانڈھی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں قائم فیکٹری میں لگنے والی آگ نے دیگر تین فیکٹریوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا استعمال شدہ کپڑوں کی فیکٹری نے متصل کیمیکل کی فیکٹری بھی جلا ڈالی۔

ریسکیو حکام کے مطابق 18 سے زائد گاڑیاں کام کر رہی ہیں، دوران آتشزدگی فیکٹری میں موجود کیمیکل کے ڈرم بھی زور دار دھماکوں سے پھٹتے رہے اور آگ میں شدت ہونے کے باعث عمارت کا ایک حصہ گرگیا جس کے نتیجے میں 5 فائر فائٹرز زخمی بھی ہوئے۔

فائر بریگیڈ حکام کے مطابق تیسرے درجے کی آگ پر قابو پانے میں ابھی مزید کئی گھنٹے درکار ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

پڑھیں:

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔

صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔

ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔

حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟

مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے