وفاقی بجٹ، پارلیمانی رہنماؤں کا مشاورتی اجلاس کل طلب
اشاعت کی تاریخ: 9th, June 2025 GMT
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے وفاقی بجٹ 26-2025ء سے متعلقہ اجلاس کےلیے پارلیمانی رہنماؤں کا مشاورتی اجلاس کل طلب کرلیا۔
اسپیکر کی زیر صدارت مشاورتی اجلاس کل شام 4 بجے ہوگا، جس میں قومی اسمبلی کے بجٹ سیشن کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے وفاقی بجٹ 26-2025ء کے لیے قومی اسمبلی اجلاس کے شیڈول کی منظوری دے دی۔
اجلاس میں وفاقی بجٹ پر بحث سمیت دیگر امور کا دورانیہ بھی طے ہوگا، اس موقع پر ڈپٹی اسپیکر غلام مصطفیٰ شاہ بھی شریک ہوں گے۔
اجلاس کے لیے اپوزیشن اراکین میں اسد قیصر، زرتاج گل، بیرسٹر گوہر، عامر ڈوگر اور ریاض فتیانہ کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ رواں مالی سال جی ڈی پی گروتھ 2.
پارلیمانی رہنماؤں کے مشاورتی اجلاس میں جے یو آئی کے نور عالم، ضیاء لیگ کے اعجاز الحق، مسلم لیگ کے حسین الہٰی، نیشنل پارٹی کے پولین بلوچ کو دعوت دی گئی ہے۔
اجلاس کےلیے پیپلز پارٹی کے اعجاز جاکھرانی، نوید قمر، شازیہ مری، شہلا رضا، ایم کیو ایم کے امین الحق، حفیظ الدین بھی شریک ہوں گے۔
پارلیمانی رہنماؤں کے مشاورتی اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، رانا تنویر، عطا تارڑ، طارق فضل چوہدری اور خالد مگسی بھی موجود ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پارلیمانی رہنماو ں مشاورتی اجلاس قومی اسمبلی وفاقی بجٹ اجلاس کے
پڑھیں:
بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
اسلام آباد (ًؐنمائندہ خصوصی +نوائے وقت رپورٹ) وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کا 3 جون کو ہونے والا اجلاس ملتوی ہو گیا جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ پیش کرنے کی نئی تاریخ کا تعین نہیں ہو سکا، دوسری جانب ذرائع قومی اسمبلی کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی وجہ سامنے آگئی۔ پارلیمانی ذرائع کے مطابق حکومت بجٹ اجلاس سے قبل اہم قانون سازی کرنا چاہ رہی ہے، قانون سازی کے آئندہ وفاقی بجٹ سے متعلق اہم اثرات ہوں گے تاہم پیپلز پارٹی قانون سازی کے حق میں نہیں ہے۔ پارلیمانی ذرائع کا بتانا ہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شگر ویلی میں اپنے خطاب میں واضح پیغام دیا ہے، پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالفت کر رہی ہے۔ بجٹ اجلاس سے قبل ترامیم نہ ہو سکیں تو آئندہ مالی سال میں تبدیلیاں نہیں آسکیں گی۔ پارلیمانی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ پیپلز پارٹی کو منانے کے لیے اہم شخصیات کو ٹاسک دے دیا گیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری فی الحال گلگت بلتستان میں الیکشن مہم میں مصروف ہیں، بلاول بھٹو زرداری کو منانے کے بعد ہی بجٹ اجلاس کی نئی تاریخ دی جا سکے گی۔وزارت خزانہ میں پیپلز پارٹی اور حکومتی ٹیم کے درمیان اجلاس ختم ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کئے جا سکے۔ پی پی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہو گا۔