Jasarat News:
2026-07-24@07:25:26 GMT

راول ڈیم میں نہاتے ہوئے 3 نوجوان ڈوب کر جاں بحق

اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

 

اسلام آباد(صباح نیوز)وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں راول ڈیم میں نہانے پر دفعہ 144کے تحت پابندی کے باوجود نہاتے ہوئے 3نو جوان ڈوب کر جاں بحق ہوگئے ۔اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق راول ڈیم میں 3 نوجوان نہانے کے غرض سے گئے تھے کہ اسی دوران تینوں نوجوان نہاتے ہوئے ڈوب گئے۔ضلعی انتظامیہ نے مزید بتایا کہ دفعہ 144 کے تحت راول ڈیم میں نہانے پر پابندی عائد ہے۔عید الاضحی کے دوسرے روز اسلام آباد میں 3 نوجوان راول ڈیم میں ڈوب کر جاں بحق ہوگئے۔ تینوں لڑکے پی ڈبلیو ڈی کے رہائشی تھے۔پولیس کے مطابق پی ڈبلیو ڈی کے رہائشی سید حسین مہدی، شاہزیب اور عبدالاحد سیروتفریح کیلئے راول ڈیم آئے تھے۔ نہاتے ہوئے تینوں ڈوب گئے۔ پاکستان نیوی کے غوطہ خوروں نے ایک لاش اور دو کو بے ہوشی کی حالت میں باہر نکالا تاہم بعد میں وہ دونوں بھی زندگی کی بازی ہار گئے۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق دفعہ 144 کے تحت راول ڈیم میں نہانے پر پابندی عائد ہے، اس کے باوجود افسوسناک واقعہ کیسے پیش آیا، ذمہ دار کون ہے؟ تعین کیلئے تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے راول ڈیم میں نہانے پر عائد پابندی کی مکمل پاسداری کی ہدایت بھی کی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ضلعی انتظامیہ نہاتے ہوئے

پڑھیں:

کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج

کراچی:

شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔

اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔ 

23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔ 

مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔ 

مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔ 

واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔ 

واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ 

گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔

متعلقہ مضامین

  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • اسکردو: سیلفی بناتے کچورا جھیل میں گرے موبائل کو نکالتے ہوئے نوجوان گر کر جاں بحق
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • شہرِ دل رُبا۔۔۔۔ راول پنڈی (تیسرا اور آخری حصہ)
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی