پنجاب میں گرمی کا نیا ریکارڈ؛ عید کے تیسرے دن سورج سوا نیزے پر آگیا، شہری بے حال
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
لاہور:
صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب بھر شدید گرمی کی لپیٹ میں آ گیا ہے اور سورج نے آگ کے گولے برسانا شروع کر دیے ہیں۔
عید کے تیسرے روز لاہور میں گرمی اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے جب کہ محکمہ موسمیات نے ریکارڈ ٹوٹنے کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔ صبح سویرے ہی سورج کی تپش نے شہریوں کو بے حال کر دیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جب کہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 47 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔
گرمی کی شدت کے باعث پیاس بجھانے کے لیے ٹھنڈے مشروبات کی مانگ میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جب کہ ٹھنڈے پانی، شربت اور آئس کریم کی دکانوں پر شہریوں کا رش بڑھ گیا ہے۔
محکمہ موسمیات نے آئندہ 2 روز کے دوران موسم خشک اور شدید گرم رہنے کی پیشگوئی کی ہے اور شہریوں کو سخت احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ شہری بلا ضرورت گھروں سے باہر نہ نکلیں اور اگر باہر جانا ناگزیر ہو تو سر کو کپڑے یا چھتری سے ڈھانپ کر رکھیں اور زیادہ سے زیادہ پانی کا استعمال کریں تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو۔ گرمی کی شدت کے پیش نظر خاص طور پر بزرگوں، بچوں اور مریضوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔