اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )وفاقی حکومت کے نئے بجٹ میں 2 ہزار ارب روپے کے نئے ٹیکسز عائد کیے جانے کا امکان ہے جب کہ پٹرولیم مصنوعات کی خریداری میں ڈیجیٹل ادائیگی پر کوئی اضافی چارجز نہیں ہوں گے لیکن نقد ادائیگی پر 2 روپے فی لیٹر اضافی دینا ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق آئندہ مالی سال 2025-26 کے لیے تقریباً 17 ہزار 600 ارب روپے سے زائد حجم کا وفاقی بجٹ آج شام 5 بجے اسپیکر ایاز صادق کی زیرصدارت قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ وفاقی بجٹ میں کاربن لیوی کی مد میں 2.

5 فیصد شرح سے نئی لیوی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جب کہ پیٹرولیم لیوی 78 روپے سے بڑھا کر 100 روپے فی لیٹر کرنے کی تجویز ہے، جس سے 1300 ارب روپے حاصل کیے جانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔پٹرولیم مصنوعات کی خریداری میں ڈیجیٹل ادائیگی پر کوئی اضافی چارجز نہیں ہوں گے لیکن نقد ادائیگی پر 2 روپے فی لیٹر اضافی دینا ہوگا۔

مہنگائی اور قوت خرید: رواں سال عید الاضحیٰ پر قربانی میں کتنی کمی واقع ہوئی؟

بجٹ اجلاس کے لیے 4 نکاتی ایجنڈا جاری کر دیا گیا ہے، جس کے مطابق قومی ترانے کے بعد اسپیکر کی اجازت سے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب وفاقی بجٹ، مالیاتی بل 2025ء  اور محاصل سمیت دیگر اہم دستاویزات ایوان میں پیش کریں گے۔ذرائع کے مطابق نئے مالی سال کے بجٹ میں 2 ہزار ارب روپے کے نئے ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے جبکہ تمام شعبوں میں دیا گیا ٹیکس استثنا ختم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔اسی طرح مجموعی ٹیکس ریونیو کا ہدف 14 ہزار 131 ارب روپے اور نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 5 ہزار 167 ارب روپے مقرر کیے جانے کا امکان ہے، جس کے ساتھ مجموعی محصولات کا ہدف 19 ہزار 298 ارب روپے تک پہنچ جائے گا۔

کیلیفورنیا کا نیشنل گارڈز کی تعیناتی پر ٹرمپ انتظامیہ کیخلاف مقدمہ دائر

بجٹ میں غیر ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ 16 ہزار 286 ارب روپے لگایا گیا ہے جب کہ بجٹ خسارہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا 5 فیصد یعنی 6 ہزار 501 ارب روپے رہنے کی توقع ہے۔علاوہ ازیں قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 8 ہزار 207 ارب روپے اور دفاع کے لیے 2 ہزار 550 ارب روپے مختص کیے جانے کی تجویز ہے۔ سول حکومت کے جاری اخراجات کے لیے 971 ارب روپے اور سبسڈیز کے لیے 1 ہزار 186 ارب روپے رکھے جانے کی تجویز بھی بجٹ کا حصہ ہے۔

مزید :

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: کیے جانے کا ادائیگی پر ارب روپے کی تجویز کے لیے کا ہدف

پڑھیں:

غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی

اسلام آباد:

سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں ارکان نے کہا ہے کہ غیر ضروری وزارتوں کو ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت کرنا ممکن ہے۔

سینیٹر ضمیر حسین کی زیر صدارت سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے ڈیولوشن کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد اختیارات کی منتقلی اور اس پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران وفاقی حکومت کی تنظیمِ نو، وزارتوں کی تعداد کم کرنے اور آئینی تقاضوں کے مطابق وفاقی حکومت کے دائرۂ کار کو محدود رکھنے سے متعلق مختلف تجاویز پر بھی تفصیلی بحث کی گئی۔

کمیٹی ارکان نے کہا کہ غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 4 سے 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے ۔ وفاقی حکومت کو آئین کے مطابق محدود دائرۂ کار میں کام کرنا چاہیے۔ کمیٹی نے مشترکہ مفادات کونسل کے آئینی کردار اور اختیارات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔

اجلاس کے دوران سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس نہ ہونے سے آئینی تقاضے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی ضروری ہے، آئی ایم ایف پر انحصار کم کرنے کے لیے وفاقی اخراجات اور وزارتوں کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے، جبکہ این ایف سی اور مشترکہ مفادات کونسل سمیت آئینی اداروں کو فعال بنایا جائے۔

کمیٹی میں اس بات پر اتفاق رائے پایا گیا کہ آئینی ادارے فعال ہوں گے تو وفاق اور صوبوں کے کئی مسائل حل ہو سکیں گے۔

سینیٹر ضمیر حسین نے کہا کہ سندھ سے روزانہ 3 ارب 70 کروڑ روپے کا تیل نکلتا ہے لیکن صوبے کو کچھ نہیں دیا جاتا، جبکہ خیبرپختونخوا سے 42 فیصد تیل نکلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن صوبوں سے تیل اور گیس نکل رہی ہے انہیں 16 سال سے ایک ٹکہ بھی نہیں دیا گیا، کمپنیاں اور کارپوریشنز منافع کما رہی ہیں جبکہ عوام بھوک سے مر رہے ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ وفاقی حکومت صوبوں کو تیل اور گیس کے پیسے کیوں نہیں دے رہی۔ صوبوں کو ان کا حصہ نہ دینا بری حکمرانی ہے۔ حکومت نہ اٹھارہویں آئینی ترمیم پر عملدرآمد کر رہی ہے اور نہ ہی صوبوں کو سپورٹ کر رہی ہے۔

اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 38(جی) پر عملدرآمد سے متعلق تقرریوں کے طریقہ کار پر کمیٹی کو رپورٹ پیش کی گئی جبکہ وزارتِ پیٹرولیم نے آئین کے آرٹیکل 172(3) پر عملدرآمد کے حوالے سے بریفنگ دی۔ کنویئر کمیٹی نے زور دیا کہ ہر ادارہ اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرے اور آئین پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

کنویئر کمیٹی نے کہا کہ تیل و گیس پیدا کرنے والے صوبوں کو ان کا آئینی حق نہ دینا سنگین خلاف ورزی ہے ۔ خیبرپختونخوا و سندھ کو تیل و گیس سے حاصل ہونے والے فوائد سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

بعد ازاں کمیٹی نے تیل و گیس پیدا کرنے والے علاقوں کی متعلقہ اداروں میں نمائندگی نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تیل و گیس سے حاصل آمدن کی مکمل تفصیلات کمیٹی کو فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کے بغیر وفاق مضبوط نہیں ہو سکتا، آئین پر عمل نہ ہونے سے سیاسی اور انتظامی مسائل جنم لیتے ہیں۔ سرکاری اداروں میں غیر ضروری اخراجات کم کر کے قومی وسائل بچائے جا سکتے ہیں، اس لیے ڈپلیکیٹ محکموں اور غیر ضروری اخراجات کا بھی جامع جائزہ لیا جانا چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی