ملک بھر میں رواں برس بھی اجتماعی قربانی کے رجحان میں اضافہ ریکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
مکوآنہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 10 جون2025ء)فیصل آباد سمیت ملک بھر میں گذشتہ سال کی طرح رواں برس بھی اجتماعی قربانی کے رجحان میں اضافہ ریکارڈکیاگیا۔شہریوں نے بتایاکہ گذشتہ چند برس سے بکروں اور دنبوں کی قیمتیں پہنچ سے باہر ہونے اور مہنگائی کی وجہ سے شہریوں میں اجتماعی قربانی کا رجحان فروغ پارہا ہے کیونکہ اجتماعی قربانی میں رقم کی بچت کے ساتھ ساتھ شہری بہت سی فکروں سے آزاد ہو جاتے ہیں۔
دستیاب معلومات کے مطابق فیصل آباد اور گردونواح میں مساجد اور گلی محلوں کی سطح پر اجتماعی قربانی کے بڑے بڑے اجتماعات منعقد ہوئے اور شہر میں اجتماعی اور انفرادی سطح پر لاکھوں جانورروں کی قربان دی گئی۔رواں برس بھی اجتماعی قربانی میں زیادہ لوگوں نے شمولیت اختیار کی کیونکہ شہریوں کا کہنا تھا کہ اجتماعی قربانی میں رقم کا حصہ نسبتا کم بنتا ہے جبکہ ایک ہی مقام پر جانور ذبح اور اس کی صفائی کٹائی وغیرہ ہوجاتی ہے۔(جاری ہے)
فیصل آباد میں بھی عید کے پہلے،دوسرے دن مختلف مقامات پر اجتماعی قربانی کا اہتمام کیا گیا اور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی مساجد اور امام بارگاہوں میں اجتماعی قربانی کے خصوصی انتظامات کئے گئے۔ اجتماعی قربانی میں فی کس کم از کم 22 ہزار روپے سی50ہزار روپے تھا۔ مختلف تنظیموں کی طرف سے اس ضمن میں فی سبیل اللہ قربانی کے حصے بھی جمع کئے گئے تھے جنہیں ذبع کرکے گوشت مستحقین، غربا اور مساکین میں تقسیم کرنے کا بھی انتظام کیا گیا تھا۔ علاوہ ازیں انفرادی سطح پر بھی قربانیاں کی گئیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اجتماعی قربانی کے
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔