عیدالاضحیٰ کے فوراً بعد سونے کی فی تولہ قیمت میں بڑی گراوٹ
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
سونے کی فی تولہ قیمت میں یک دم 6 ہزار روپے سے زائد کی کمی سامنے آئی ہے۔
عیدالاضحی کی چھٹیوں کے بعد گولڈ مارکیٹ کھلتے ہی سونے کی فی تولہ قیمت میں 6 ہزار 100 روپے کی بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔
آل پاکستان جیمز اینڈ جیو لرز ایسوسی ایشن کے مطابق سونے کی فی تولہ قیمت کمی کے بعد 3 لاکھ 52 ہزار 300 روپے ہوگئی ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق 10 گرام سونے کے ریٹ میں 5 ہزار 230 روپے کی کمی ہوئی، جس کے بعد قیمت 3 لاکھ 2 ہزار 40 روپے ہے۔
عالمی گولڈ مارکیٹ میں سونے کے ریٹ میں 61 ڈالر فی اونس کی کمی ہوئی، جس کے بعد قیمت 3 ہزار 339 ڈالر ہوچکی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سونے کی فی تولہ قیمت کے بعد
پڑھیں:
بھارتی روپیہ تاریخ کی بدترین گراوٹ کا شکار
نئی دہلی بھارتی کرنسی کو ایک اور بڑا دھچکا لگا ہے، جہاں بھارتی روپیہ اپنی تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق پہلی بار ایک امریکی ڈالر کی قدر 97 بھارتی روپے سے تجاوز کر گئی، جس کے بعد کرنسی مارکیٹ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھارتی روپیہ اس سے قبل مئی 2026 میں اپنی ریکارڈ کم ترین سطح 96 روپے 96 پیسے فی ڈالر تک گر گیا تھا، تاہم تازہ گراوٹ نے یہ ریکارڈ بھی توڑ دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روپے کی مسلسل کمزور ہوتی قدر بھارتی معیشت کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر سکتی ہے۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے بھارتی روپے پر شدید دباؤ ڈالا ہے۔ چونکہ بھارت اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدی تیل سے پورا کرتا ہے، اس لیے تیل مہنگا ہونے سے درآمدی بل میں اضافہ اور امریکی ڈالر کی طلب بڑھ جاتی ہے، جس کا براہِ راست اثر مقامی کرنسی پر پڑتا ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق روپے کی گراوٹ کو روکنے کے لیے ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) نے زرمبادلہ مارکیٹ میں مداخلت کرتے ہوئے ڈالر فروخت کیے اور روپے کو سہارا دینے کی کوشش کی، تاہم اس کے باوجود کرنسی مزید دباؤ کا شکار رہی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں بلند رہیں اور بیرونی مالیاتی دباؤ برقرار رہا تو بھارتی روپے کی قدر میں مزید کمی آ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں درآمدی اشیا مہنگی ہونے، مہنگائی میں اضافے اور صنعتی شعبے پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
معاشی حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں بھارتی حکومت اور مرکزی بینک کو روپے کے استحکام، مہنگائی پر قابو پانے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کے لیے مزید مؤثر مالیاتی اور معاشی اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ کرنسی مارکیٹ میں استحکام لایا جا سکے۔