data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

غزہ /تل ابیب / انقراہ (مانیٹرنگ ڈیسک) غزہ میں انسانی بحران ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ پیر کے روز غزہ شہر میں امداد حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے مظلوم فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے کم از کم 10 افراد شہید اور 30 سے زاید زخمی ہو گئے۔غزہ کی سول ڈیفنس فورس کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب سیکڑوں شہری خوراک اور امداد کے لیے 2 مختلف تقسیم مراکز کی طرف جا رہے تھے۔ گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران اسرائیلی جارحیت سے 50 فلسطینی شہید اور 400 زخمی ہوگئے، غزہ میں شہدا کی تعداد 54ہزار 930 ہوگئی، زخمی فلسطینیوں کی تعداد ایک لاکھ 26ہزار 600 سے تجاوز کر گئی۔اسرائیل نے غزہ تک امداد پہنچانے کی کوشش کرنے والی معروف ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ کو گرفتار کرکے ملک بدر کردیا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج گریٹا تھنبرگ سمیت دیگر 12 افراد کو ڈی پورٹ کرنے کے لیے تل ابیب ائر پورٹ لے گئی تھی۔رپورٹ کے مطابق گریٹا تھنبرگ اور دیگر 3 کارکنوں نے رضاکارانہ طور پر اسرائیل چھوڑنے کا فیصلہ کیا جب کہ دیگر 8 ارکان نے ملک بدری کا حکم چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اقوامِ متحدہ نے کشتی پر قبضے کو بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، حماس نے فریڈم فلوٹیلا پر اسرائیلی قبضے کو منظم دہشت گردی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے آزادی کی آواز دبائی نہیں جا سکتی۔ حماس کے ترجمان نے کہا کہ ہم ان بہادر کارکنوں کو سلام پیش کرتے ہیں جو اسرائیلی دھمکیوں کے سامنے ڈٹے رہے اور ثابت کیا کہ غزہ تنہا نہیں ہے۔فرانس میں بھی اسرائیلی اقدام کے خلاف شدید احتجاج دیکھنے میں آیا، پیرس میں سیکڑوں مظاہرین نے سڑکوں پر نکل کر اسرائیل کے خلاف نعرے بازی کی اور گرفتار تمام کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ترکیہ کی وزارت خارجہ نے اسے گھناؤنا حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کی ظالمانہ پالیسیوں کی ایک اور مثال ہے۔اسرائیلی بائیں بازو کے اپوزیشن رہنما یائر گولان نے فوری طور پر غزہ میں جنگ ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت اب زیادہ تر اسرائیلی عوام کی نمائندگی نہیں کرتی۔ خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق ڈیموکریٹس پارٹی کے سربراہ اور اسرائیلی فوج کے سابق نائب سربراہ یائر گولان نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ’آج اسرائیل کی حکومت اکثریتی اسرائیلی عوام کی نمائندہ نہیں رہی‘۔ اسرائیل کے سابق وزیرِاعظم ایہود اولمرٹ نے غزہ میں جاری فوجی جارحیت پر موجودہ وزیراعظم نیتن یاہو اور ان کی حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل کے سابق وزیراعظم نے فلسطین میں پائیدار امن کے لیے 2 ریاستی حل پر اصرار کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں اب جنگ جاری رکھنا ایک جرم ہوگا۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اپیل کی نیتن یاہو کو اپنے آفس بلائیں اور میڈیا کے سامنے کہیں کہ بی بی اب بہت ہوچکا ہے، ختم کرو یہ سب۔علاوہ ازیں مغربی کنارے میں معصوم فلسطینیوں کے خلاف انتہا پسندانہ تشدد کو ہوا دینے پر 2 اسرائیلی وزرا کو مختلف ممالک کی جانب سے پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق 2 انتہاپسند اسرائیلی وزرا ایتمار بین گویر اور بیزالیل سموٹریچ کے اثاثے منجمد اور سفری پابندیاں عاید کی گئی ہیں۔ اسرائیلی وزیر خزانہ اور قومی سلامتی کے وزیر پر یہ پابندیاں برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا، نیوزی لینڈ اور ناروے نے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف انتہا پسندی کو ہوا دینے پر عاید کی ہیں۔ان پانچوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ بین گویر اور سموٹریچ نے فلسطینیوں کے خلاف انتہا پسندانہ تشدد پر اکسایا اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب ہوئے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نیتن یاہو ہوئے کہا کے مطابق کی حکومت کے خلاف

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم