پاکستان نے انٹرنیشنل بائیولوجی اولمپيڈ میں گولڈ میڈل جیت لیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
پاکستان نے سائنس کے عالمی میدان میں ایک تاریخی سنگ میل عبور کر لیا، صدیق پبلک اسکول کے طالبعلم عبدالرفیع پراچہ نے فلپائن میں منعقدہ 35ویں انٹرنیشنل بائیولوجی اولمپيڈ (IBO) میں ملک کے لیے پہلا گولڈ میڈل جیتا۔ یہ مقابلہ 20 سے 27 جولائی تک جاری رہا اور دنیا بھر سے اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل طلبا نے اس میں حصہ لیا۔
پاکستانی ٹیم نے یہ کارنامہ اسٹیم کیریئرز پروگرام کے تحت سر انجام دیا، جو ہائیر ایجوکیشن کمیشن (HEC) اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز (PIEAS) کا مشترکہ منصوبہ ہے۔ ٹیم کی رہنمائی ڈاکٹر اسما عمران اور ڈاکٹر اسما رحمان نے کی، جو نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بائیوٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ (NIBGE) سے وابستہ ہیں، اور PIEAS و پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن (PAEC) کے اہم ادارے کا حصہ ہیں۔
مزید پڑھیں: ساون، چائے اور موسیقی: بارش میں بھیگتے بل بورڈ کو گنیز ورلڈ ریکارڈ کا اعزاز کیوں ملا؟
اس کامیابی کے علاوہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کی طالبہ ایان اسلم کو اعزازی سند (Honorable Mention) سے نوازا گیا، جبکہ صدیق پبلک اسکول راولپنڈی کی سعدیہ ذوالفقار اور فیوژن کالج شکرگڑھ، نارووال کی عروج فاطمہ نے بھی عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کی۔
پاکستان میں ہر سال PIEAS، PAEC کی نگرانی میں نیشنل سائنس ٹیلنٹ کانٹیسٹ (NSTC) منعقد کرتا ہے، جس میں فزکس، کیمسٹری، بائیولوجی اور میتھمیٹکس کے میدان شامل ہیں۔ یہ مقابلہ پہلے صرف فزکس تک محدود تھا، مگر 2003 سے اسے دیگر سائنسی مضامین تک وسعت دی گئی۔
پاکستان نے بین الاقوامی سائنسی اولمپيڈ میں اپنی شرکت کا آغاز 2001 میں فزکس، 2005 میں میتھمیٹکس، اور 2006 میں بائیولوجی و کیمسٹری سے کیا۔ اب تک پاکستان کے 380 سے زائد طلبا ان عالمی مقابلوں میں شرکت کر چکے ہیں، جنہوں نے مجموعی طور پر 140 تمغے جیتے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
HEC پاکستان صدیق پبلک اسکول عبدالرفیع پراچہ فلپائن گولڈ میڈل ہائیر ایجوکیشن کمیشن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان صدیق پبلک اسکول فلپائن گولڈ میڈل ہائیر ایجوکیشن کمیشن
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔