اسلام ٹائمز کیساتھ اپنے خصوصی انٹرویو میں جموں و کشمیر انجمن مصباح الاسلام کے سربراہ کا کہنا تھا کہ عرب دنیا کے حکمران اپنی کرسی کے تحفظ میں لگے ہوئے ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ اگر ہم فلسطین کی حمایت کرینگے تو ہماری کرسیاں خطرے میں پڑ جائیں گی، لیکن انہیں یاد رکھنا چاہیئے کہ آج فلسطین کی باری ہے تو کل انکی نوبت آئیگی۔ متعلقہ فائیلیںمفتی مبارک حسین نعمانی جموں و کشمیر انجمن مصباح الاسلام کے سربراہ ہیں، جس کے ذیل میں مختلف دینی ادارے اور دار العلوم فعال ہیں۔ اسلام ٹائمز نے مفتی مبارک حسین نعمانی سے ایک نشست کے دوران کشمیر کی موجودہ صورتحال اور فلسطین پر اسرائیلی جارحیت پر ایک خصوصی انٹرویو کا اہتمام کیا، جس دوران انہوں نے کہا کہ وحدت اسلامی کے نتیجے میں ہی مسلمانوں کے تمام مسائل کا حل ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن ہمیں مسلمان سمجھ کر نشانہ بنا رہے ہیں، لیکن ہم ایک دوسرے کو مسلمان ماننے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین کے مسئلہ کو انسانی بنیادوں پر دیکھا جانا چاہیئے اور وہاں ہونیوالی قتل و غارتگری کو روکنا ہوگا، فلسطین کو کسی صورت میں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ہے اور فلسطین پر اسرائیل اور امریکہ کے جنگی جرائم ہرگز قابل برداشت نہیں ہیں۔ مفتی مبارک حسین نعمانی کا کہنا تھا کہ عرب دنیا کے حکمران اپنی کرسی کے تحفظ میں لگے ہوئے ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ اگر ہم فلسطین کی حمایت کریں گے تو ہماری کرسیاں خطرے میں پڑ جائیں گی، لیکن انہیں یاد رکھنا چاہیئے کہ آج فلسطین کی باری ہے تو کل انکی نوبت آئے گی۔ اسلامی ممالک کو سامنے آکر فلسطین میں ہونیوالی نسل کشی کو روکنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ منبر و محراب کو ملت کے مسائل کے حل اور اتحاد و یکجہتی کیلئے استعمال ہونا چاہیئے نہ کہ منبر پر انتشار، تضاد و منافرت کی باتیں کی جائیں۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.

youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ فلسطین کی

پڑھیں:

جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی

تہران:

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔

 

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔

مزید پڑھیں

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔

ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے 28 افراد جاں بحق، 29 زخمی
  • فکر اقبالؒ اورامن عالم میں پاکستان کاکردار
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت