50 ممالک کے ہزاروں افراد کا اسرائیلی مظالم کیخلاف ’غزہ گلوبل مارچ‘ کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
غزہ کے محاصرے اور اسرائیل کے مظالم کے خلاف دنیا بھر سے ہزاروں افراد نے "گلوبل مارچ ٹو غزہ" کا آغاز کر دیا ہے۔
اس عالمی اقدام میں 50 سے زائد ممالک سے انسانی حقوق کی تنظیمیں، مزدور یونینز، طلباء تنظیمیں، ڈاکٹرز، اور سماجی کارکن شامل ہیں جو قاہرہ سے رفح بارڈر تک پیدل مارچ کریں گے۔
مارچ کا مقصد غزہ کے مظلوم عوام سے اظہارِ یکجہتی، انسانی امداد کی فراہمی، اور اسرائیلی ناکہ بندی کا خاتمہ ہے۔
یہ قافلہ 15 جون کو رفح بارڈر پر دھرنا دے گا تاکہ مصری اور عالمی حکام پر دباؤ ڈالا جا سکے کہ وہ 3,000 سے زائد امدادی ٹرکوں کو غزہ میں داخل ہونے دیں۔ اس مارچ میں شریک تمام افراد رضاکار ہیں، جنہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت اس میں شمولیت اختیار کی ہے۔
مارچ میں شریک تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ یہ مہم مکمل طور پر انسانی بنیادوں پر ہے اور اس کا کسی سیاسی جماعت یا ریاست سے کوئی تعلق نہیں۔
مارچ کے دوران احتجاجی کیمپ لگائے جائیں گے، شعور بیداری کی سرگرمیاں ہوں گی، اور ایک عالمی درخواست مصری حکام اور اقوامِ متحدہ کے نمائندوں کو پیش کی جائے گی جس میں رفح بارڈر فوری کھولنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔
اس مارچ کے ساتھ ہی تیونس سے بھی ایک زمینی قافلہ غزہ کی طرف روانہ ہو چکا ہے، جس میں طلباء، صحافی، ڈاکٹرز اور سابقہ یکجہتی مشنز کے شرکاء شامل ہیں۔ یہ قافلہ لیبیا سے ہوتے ہوئے مصر کے دارالحکومت قاہرہ پہنچے گا اور پھر رفح بارڈر پر عالمی مارچ سے آ کر ملے گا۔
مارچ کے منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک بارڈر تک کا مارچ نہیں، بلکہ انسانیت کی آواز ہے۔ دنیا بھر سے عوام اسرائیل کے مظالم پر خاموشی توڑ رہے ہیں اور پیغام دے رہے ہیں کہ غزہ کے عوام اکیلے نہیں ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث سیاحوں کی تعداد میں نمایاں کمی کے بعد دبئی نے سیاحت کو دوبارہ فروغ دینے کے لیے منفرد مہم شروع کر دی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق نئی اسکیم کے تحت متحدہ عرب امارات کے رہائشی اگر اپنے دوستوں یا رشتہ داروں کو دبئی گھومنے کے لیے آمادہ کریں تو انھیں 3 ہزار اماراتی درہم مالیت تک کے انعامات اور سہولتیں دی جائیں گی۔
دبئی کے محکمۂ اقتصادیات و سیاحت کی جانب سے متعارف کرائی گئی اسکیم ’’دبئی اِنوائٹ‘‘ کے تحت یو اے ای میں مقیم افراد اپنے بیرونِ ملک رہنے والے دوستوں اور اہلِ خانہ کو نامزد کرسکتے ہیں۔
اگر کسی شہری کی دعوت پر ان کے دوست یا رشتہ دار سیاحتی ویزے پر دبئی آتے ہیں تو میزبان کو ہوٹل میں قیام، ریستورانوں میں خصوصی رعایت، تفریحی مقامات کے ٹکٹ اور دیگر مراعات پر مشتمل خصوصی پیکیج دیا جائے گا۔
اس اسکیم کے تحت ہر رہائشی زیادہ سے زیادہ تین مہمانوں کے لیے فوائد حاصل کرسکتا ہے بشرطیکہ مہمان 31 اکتوبر سے پہلے دبئی پہنچ جائیں۔ تاہم ان مراعات سے دسمبر تک فائدہ اٹھایا جا سکے گا۔
اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ آنے والا فرد یو اے ای کا رہائشی نہ ہو، وہ درست سیاحتی ویزے پر سفر کرے اور اسے صرف ایک مرتبہ ہی نامزد کیا جا سکے گا۔
دبئی حکومت کے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے اثرات خلیجی ممالک تک پہنچنے کے بعد سیاحت شدید متاثر ہوئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد دبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور معروف فیئرمونٹ ہوٹل کو نقصان پہنچا جس سے دبئی کی محفوظ سیاحتی مقام کی ساکھ متاثر ہوئی۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس 2025 میں دبئی نے تقریباً 2 کروڑ بین الاقوامی سیاحوں کا خیرمقدم کر کے نیا ریکارڈ قائم کیا تھا لیکن حالیہ جنگ کے بعد صورتحال یکسر بدل گئی ہے۔
ہوائی سفر پر سیکیورٹی خدشات بڑھنے کے باعث دبئی آنے والی کئی بین الاقوامی ایئرلائنز نے اپنی پروازیں معطل یا محدود کر دیں جبکہ متعدد طیاروں نے مشرقِ وسطیٰ کی فضائی حدود سے گزرنے سے گریز کیا۔
اس کے نتیجے میں دبئی ایئرپورٹس پر آپریٹ کرنے والی ایئرلائنز کی تعداد میں نمایاں کمی آئی۔ دوسری جانب ہوٹلوں میں بکنگ کم ہونے سے خالی کمروں کی شرح میں اضافہ ہوا ہے اور کئی کاروباری اداروں کی آمدنی میں 50 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔
دبئی کے بعض مشہور ہوٹلوں نے کم طلب کے باعث تزئین و آرائش کے منصوبے قبل از وقت شروع کر دیے ہیں۔ دنیا کے مشہور برج العرب ہوٹل کو بھی بڑے پیمانے پر مرمت اور بحالی کے لیے تقریباً 18 ماہ کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ کئی ہوٹل اور سیاحتی ادارے حکومت کی نئی اسکیم کے تحت 45 فیصد تک رعایت اور مفت قیام جیسی خصوصی پیشکشیں بھی دے رہے ہیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق دبئی اِنوائٹ اسکیم کے آغاز کے صرف 48 گھنٹوں میں 10 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کو اس منصوبے سے سیاحت کی بحالی کی امیدیں وابستہ ہیں۔