فلسطینی ریاست اب امریکی پالیسی کا ہدف نہیں، اسرائیل میں امریکی سفیر کا متنازع بیان
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر مائیک ہکابی نے کہا ہے کہ وہ نہیں سمجھتے کہ ایک آزاد فلسطینی ریاست اب امریکہ کی خارجہ پالیسی کا مقصد ہے۔ ان کے اس بیان نے واشنگٹن میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ امریکی محکمہ خارجہ نے وضاحت دی کہ سفیر نے ذاتی حیثیت میں بات کی ہے۔
بلوم برگ نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا فلسطینی ریاست کا قیام اب بھی امریکی پالیسی کا ہدف ہے تو انہوں نے جواب دیا: "میرا نہیں خیال۔"
محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ "پالیسی سازی صدر ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس کا اختیار ہے۔ سفیر ہکابی اپنی ذاتی رائے دے رہے تھے، ہم اس پر تبصرہ نہیں کریں گے۔"
یاد رہے کہ رواں سال کے آغاز میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ پر امریکی کنٹرول کی تجویز دی تھی، جسے انسانی حقوق کی تنظیموں، عرب ممالک، اقوام متحدہ اور فلسطینیوں نے "نسلی تطہیر" قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔
ہکابی، جو ایک قدامت پسند عیسائی اور اسرائیل کے پختہ حامی ہیں، نے مزید کہا:"جب تک ثقافتی طور پر بہت بڑے پیمانے پر تبدیلیاں نہ آئیں، فلسطینی ریاست کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ اور غالباً یہ تبدیلیاں ہماری زندگی میں نہیں ہوں گی۔"
انہوں نے تجویز دی کہ فلسطینی ریاست کے لیے اسرائیل کی زمین کی بجائے کسی اور مسلم ملک میں جگہ نکالی جائے۔ انہوں نے مغربی کنارے (ویسٹ بینک) کو "یہودیہ اور سامریہ" کے بائبلی ناموں سے پکارا — وہی نام جو اسرائیلی حکومت استعمال کرتی ہے، حالانکہ اس علاقے میں تقریباً 30 لاکھ فلسطینی آباد ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فلسطینی ریاست
پڑھیں:
’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء
پشاور (بیورو رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبر پی کے محمد سہیل آفریدی نے ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا باضابطہ اجراء کر دیا۔ جو 5 سٹریٹجک ستونوں، 9کلیدی اہداف، 32 تھیمیٹک ڈومینز، 915 سٹریٹجک اقدامات پر مشتمل ہے۔اس پالیسی کے تحت حکومتی خدمات مرحلہ وار آن لائن اور Citizen-Centric بنائے جائیں گی۔ پیپر لیس گورننس کے ذریعے شفافیت، جوابدہی اور سرکاری کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو AI اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دی جائے گی۔ گرین آئی سی ٹی، کاربن فٹ پرنٹ میں کمی اور کاربن کریڈٹ رجسٹری پر کام کیا جائے گا۔ ڈیجیٹل اصلاحات سے عوام کو سرکاری دفاتر کے غیر ضروری چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔