بیجنگ :چین امریکہ معاشی و تجارتی امور کے چینی رہنما اور چین کے نائب وزیر اعظم حہ لی فنگ اور امریکی رہنماؤں، امریکی وزیر خزانہ بیسنٹ، وزیر تجارت لوٹنک اور تجارتی نمائندے گریر نے لندن میں چین امریکہ اقتصادی و تجارتی مشاورتی میکانزم کا پہلا اجلاس منعقد کیا۔ فریقین نے 5 جون کو دونوں سربراہان مملکت کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاق رائے پر عمل درآمد اور جنیوا اقتصادی اور تجارتی مذاکرات کے نتائج کو مستحکم کرنے کے اقدامات کے فریم ورک پر اصولی طور پر اتفاق کیا اور ایک دوسرے کے معاشی اور تجارتی خدشات میں نئی پیش رفت حاصل کی۔بدھ کے روز چینی میڈیا نے بتایا کہ حہ لی فنگ نے کہا کہ چین امریکہ اقتصادی اور تجارتی تعلقات کا جوہر باہمی فائدے اور مشترکہ کامیابی ہیں۔ فریقین کو اقتصادی اور تجارتی اختلافات کو مساوی بنیادوں پر بات چیت اور باہمی فائدے مند تعاون کے ذریعے حل کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ چین اس بات کا اعادہ کرتا ہے کہ فریقین کو اپنے وعدوں کی پاسداری کرتے ہوئے نیک نیتی کے جذبے کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور اتفاق رائے پر سنجیدگی سے عمل درآمد کرنا چاہئے ۔ہمیں مشترکہ طور پر بات چیت کی کامیابیوں کا تحفظ کرنا ہوگا اور مواصلات اور بات چیت کو برقرار رکھتے ہوئے چین امریکہ اقتصادی اور تجارتی تعلقات کی مستحکم اور طویل مدتی ترقی کو فروغ دینا ہوگا تاکہ عالمی معیشت میں مزید یقین اور استحکام پیدا کیا جائے۔ امریکی وفد کا کہنا تھا کہ موجودہ اجلاس کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں اور دوطرفہ اقتصادی و تجارتی تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں۔ امریکہ چین کے ساتھ ملکر دونوں سربراہان مملکت کے درمیان ٹیلیفونک بات چیت میں طے پانے والے اتفاق رائے کے مطابق کام کرے گا اور اس اجلاس میں طے پانے والے اتفاق رائے پر مشترکہ طور پر عمل درآمد کرے گا۔

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: اقتصادی اور تجارتی چین امریکہ اقتصادی اتفاق رائے بات چیت

پڑھیں:

ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے

واشنگٹن:

مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔

یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔

ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن