گزشتہ 4 بجٹ کے مقابلے میں اس بار ریلیف تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دیا گیا، عطا تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ تنخواہ دار طبقے کو گزشتہ 4 بجٹ کے مقابلے میں اس بار ریلیف دیا گیا۔جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں گفتگو کے دوران عطا تارڑ نے کہا کہ قوم افواجِ پاکستان کے پیچھے کھڑی ہے، اب وقت ہے کہ معیشت پر اسی یکجہتی کا مظاہرہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ پانی ہماری لائف لائن ہے، پانی کے ذخائر بڑھانا ضروری ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے بھی کہا کہ ڈیم بننے چاہئیں۔عطا تارڑ نے مزید کہا کہ گزشتہ چار بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو اتنا ریلیف نہیں دیا گیا جو اس بار دیا گیا، منی بجٹ نہیں آئے گا۔اُن کا کہنا تھا کہ علی امین گنڈاپور احتجاج کے لیے اسلام آباد نہیں آئیں گے، احتجاجی تحریک کا اِس وقت کوئی ماحول نہیں ہے ، ریاست مخالف بیانیہ بُری طرح ناکام ہوچکا ہے۔
غزہ جنگ ختم اور ایران پر حملے کی دھمکیاں بند کرو، ٹرمپ نے نیتن یاہو کو دوٹوک پیغام دے دیا
وفاقی وزیر اطلاعات نے یہ بھی کہا کہ پاک بھارت جنگ میں پاکستان کی برتری دنیا بھر پر ثابت ہوئی، قوم افواج پاکستان کے پیچھے کھڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سولر بن رہے ہیں، ضروری ہے کہ مقامی انڈسٹری کی حوصلہ افزائی کی جائے۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ نان فائلر گاڑی نہیں خرید سکے گا، بینک سے قرض بھی نہیں ملے گا۔عطا تارڑ نے کہا کہ شوگر سیکٹر سے ٹیکس کلیکشن میں اضافہ ہوا ہے، چینی کی بوریوں پر اس بار کیو آر کوڈ لگایا گیا، جس سے شوگر سیکٹر میں ٹیکس کلیکشن میں اضافہ ہوا ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ چیئرمین ایف بی آر بہترین، محنتی اور قابل افسر ہیں، ایک سال میں ایف بی آر میں ٹیکنالوجی لائی گئی جس سے بہتری آئی ہے۔
پیپلزپارٹی نے سولر پینلز پر 18 فیصد ٹیکس مسترد کردیا
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: عطا تارڑ نے نے کہا کہ دیا گیا
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔