data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں ملٹری پنشن کی مد میں تقریبا 66 ارب روپے اور سویلین پنشن کے بجٹ میں 9 ارب روپے کا اضافہ کیا گیا، جس کے بعد مالی سال 26-2025 کے مجموعی ایک ہزار 55 ارب روپے کے پنشن بجٹ میں سے 742 ارب روپے ملٹری اور 243 ارب روپے سویلین پنشن کی مد میں مختص کیے گئے۔بجٹ دستاویزکے مطابق رواں مالی سال 25-2024 ء کے ملٹری اورسویلین پنشن کے بجٹ میں 14 ،14 ارب روپے اضافے کا بھی تخمینہ لگایا گیا۔دستاویز کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے ملٹری پنشن کی مد
میں 742 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں اور رواں مالی سال ملٹری پنشن کی مد میں 662 ارب روپے رکھے گئے تھے تاہم رواں مالی سال نظرثانی ملٹری پنشن کے اخراجات کا تخمینہ 676 ارب روپے ہوگیا۔آئندہ مالی سال سویلین پنشن کے بجٹ کی مد میں 243 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں اور رواں مالی سال سویلین پنشن کے بجٹ کی مد میں 220 ارب روپے مختص تھے تاہم رواں مالی سال سویلین پنشن بجٹ کے اخراجات کا تخمینہ 234 ارب روپے ہے۔دستاویز کے مطابق نئے مالی سال فیڈرل پنشن فنڈکی مد میں کمی کرکے 4 ارب 30 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں اور رواں مالی سال فیڈرل پنشن فنڈ کی مد میں 10 ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔آئندہ مالی سال مجموعی طور پر پنشن کے لیے ایک ہزار 55 ارب روپے رکھے گئے ہیں اورآئندہ مالی سال کے لیے مجموعی پنشن کے اخراجات میں 41 ارب روپے کا اضافہ کیا گیا ہے کیونکہ رواں مالی سال پنشن کی مد میں ایک ہزار 14 ارب روپے کا بجٹ مختص تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ملٹری پنشن کی مد میں سویلین پنشن کے بجٹ ا ئندہ مالی سال رواں مالی سال ارب روپے مختص مختص کیے گئے ارب روپے کا گئے ہیں اور

پڑھیں:

مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر

اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو (اے جی پی آر) اسلام آباد نے مالی سال 26-2025 کے اختتام کے سلسلے میں ادائیگیوں، بلوں اور کلیمز کی وصولی کے لیے اہم ڈیڈ لائنز مقرر کردی ہیں۔

اے جی پی آر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق تمام ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ آفیسرز (ڈی ڈی اوز) کو ہدایت کی گئی ہے کہ حالیہ خریداریوں اور حاصل کی گئی خدمات کے تمام کلیمز 12 جون 2026 تک لازمی طور پر جمع کرائے جائیں۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ 12 جون 2026 تک جاری کیے گئے ٹوکنز کے تحت تمام غیر منظور شدہ بلوں اور دعوؤں کو دوبارہ جمع کرانے کی آخری تاریخ 15 جون 2026 مقرر کی گئی ہے۔

اسی طرح اے جی پی آر اسلام آباد اور اس کے ماتحت دفاتر کے زیر انتظام اسائنمنٹ اکاؤنٹس کے لیے ریلیز جمع کرانے کی آخری تاریخ 19 جون 2026 ہوگی۔

اے جی پی آر نے واضح کیا ہے کہ 12 جون 2026 کے بعد اعزازیہ (ہونوریرئم) سے متعلق کوئی کلیم وصول نہیں کیا جائے گا۔

مزید برآں آف سائیکل ادائیگیوں کے حوالے سے کمپیوٹرائزڈ تبدیل شدہ اسٹیٹمنٹس صرف 11 جون 2026 تک وصول کی جائیں گی، جبکہ ان پر کارروائی عارضی طور پر 16 جون 2026 تک مکمل کر لی جائے گی۔

نوٹیفکیشن میں تمام ڈی ڈی اوز اور متعلقہ دفاتر کو تاکید کی گئی ہے کہ ادائیگیوں اور مالی معاملات میں کسی قسم کی تاخیر سے بچنے کے لیے تمام کیسز مقررہ مدت کے اندر جمع کرائے جائیں۔

اے جی پی آر نے یہ بھی آگاہ کیا ہے کہ موجودہ مالی سال سے متعلق تنخواہوں کے چیکس مالی سال کے اختتام پر زائد المعیاد (اسٹیل) تصور ہوں گے اور 30 جون 2026 کے بعد ان کے متبادل چیکس جاری نہیں کیے جائیں گے۔

ادارے نے تمام متعلقہ سرکاری دفاتر اور مالیاتی حکام پر زور دیا ہے کہ بلوں، ادائیگیوں اور کلیمز سے متعلق تمام مقررہ ڈیڈ لائنز پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ مالی سال 26-2025 کے حسابات بروقت اور مؤثر انداز میں مکمل کیے جا سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews آخری تاریخ مقرر کلیمز مالی سال کا اختتام وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان