این آئی سی وی ڈی میں مبینہ کرپشن، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کا انکوائری کمیٹی پر تحفظات کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
—فائل فوٹو
کراچی کے قومی ادارہ امراض قلب (این آئی سی وی ڈی) میں اربوں روپے کی مبینہ کرپشن کے حوالے سے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو کو خط لکھ کر انکوائری کمیٹی پر تحفظات کا اظہار کر دیا ہے۔
خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ محکمہ صحت سندھ کی تشکیل کردہ انکوائری کمیٹی جونئیر افسران پر مشتمل ہے، جو ایک سینئر افسر کے خلاف آزادانہ تحقیقات نہیں کر سکتی۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے سفارش کی کہ گریڈ 20 کے کم از کم پانچ سینئر افسران پر مشتمل نئی انکوائری کمیٹی قائم کی جائے تاکہ شفاف تحقیقات ممکن بنائی جا سکیں۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے کرپشن پر سیپشن انڈیکس 2024ء جاری کر دیا، پاکستان کرپشن پر سیپشن انڈیکس میں تنزلی کے بعد 135 نمبر پر آ گیا۔
خط کے مطابق اسپتال کے سربراہ پر ڈائریکٹر جنرل آڈٹ سندھ کی رپورٹ میں مالی سال 24-2023ء کے دوران 40 ارب روپے کی مبینہ کرپشن کا الزام لگایا گیا تھا۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے اسی حوالے سے 16 جون کو وزیر اعلیٰ سندھ کو بھی ایک خط لکھا تھا۔
سیکریٹری صحت نے یکم جولائی کو انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی جس میں ایڈیشنل سیکریٹری اور ڈپٹی سیکریٹری صحت کو شامل کیا گیا تھا۔
ادارے نے مطالبہ کیا کہ محکمہ صحت، سپرا، ڈی جی آڈٹ، محکمہ خزانہ اور اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو نئی کمیٹی میں شامل کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل انکوائری کمیٹی
پڑھیں:
جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر مشکوک سفری دستاویزات کی بنیاد پر مسافر آف لوڈ
کراچی:ایف آئی اے امیگریشن نے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر امیگریشن کلیئرنس کے دوران ایک مسافر کمیل عباس کو مشکوک سفری دستاویزات کی بنیاد پر آف لوڈ کردیا۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق تفصیلی جانچ کے دوران مسافر کے پاسپورٹ پر مشتبہ جعلی مہریں پائی گئیں۔ مشتبہ مہروں کی تصدیق انٹیگریٹڈ بارڈر مینجمنٹ سسٹم (IBMS) کے ذریعے کی گئی، تاہم متعلقہ آمد و روانگی کا کوئی ریکارڈ دستیاب نہ ہونے پر مہروں کے جعلی ہونے کا شبہ مزید مضبوط ہو گیا۔
ترجمان کے مطابق ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران مسافر نے بیان دیا کہ اس نے اپنا پاسپورٹ اپنے دوست نعیم کے حوالے کیا تھا، جو اس وقت ملائیشیا میں مقیم ہے اور مبینہ طور پر اسی شخص نے پاسپورٹ پر جعلی پاکستانی امیگریشن مہریں لگوائیں۔ مسافر نے مذکورہ شخص کے رابطہ نمبرز بھی فراہم کر دیے ہیں۔
مسافر کو پرواز سے آف لوڈ کر کے مقدمہ مزید قانونی کارروائی، جامع تحقیقات اور جعلی امیگریشن مہروں کے استعمال میں ملوث تمام افراد کی نشاندہی کے لیے انسدادِ انسانی اسمگلنگ سرکل (AHTC) کے حوالے کر دیا گیا ہے۔