جنگ مسلط کی گئی تو امریکی اڈے نشانے پر ہوں گے، ایرانی وزیر دفاع
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
جنگ مسلط کی گئی تو امریکی اڈے نشانے پر ہوں گے، ایرانی وزیر دفاع WhatsAppFacebookTwitter 0 12 June, 2025 سب نیوز
تہران(آئی پی ایس) ایران کے وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل عزیز نصیر زادہ نے امریکا کو سخت الفاظ میں تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکا یا اسرائیل نے ایران پر جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی تو ایران بھرپور طاقت سے ردعمل دے گا، اور دشمن کے تمام مفاداتفوجی اڈے اور تنصیبات نشانے پر ہوں گے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق جنرل عزیز نصیر زادہ نے امریکی وزیر دفاع کی حالیہ بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایک جانب امریکی حکام مذاکرات کی بات کرتے ہیں، جبکہ دوسری جانب دھمکیاں دے کر خطے میں کشیدگی کو ہوا دے رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی حکام کو، بالخصوص نئے وزیر دفاع کو چاہیے کہ وہ اسلامی انقلاب کے بعد کی 40 سالہ ایرانی مزاحمتی تاریخ کا بغور مطالعہ کریں۔
بریگیڈیئر جنرل نصیر زادہ نے واضح کیا کہ ایران کبھی جنگ کا آغاز نہیں کرے گا، تاہم اگر جنگ مسلط کی گئی تو ایران اس کا منہ توڑ جواب دے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے حال ہی میں ایک نئے بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے، جو 1,200 کلومیٹر سے زائد فاصلے پر مخصوص ہدف کو ایک میٹر کی درستگی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور یہ ہدف تلاش کرنے کے لیے کسی بیرونی GPS نیویگیشن پر انحصار نہیں کرتا۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے امکانات کم ہوتے جا رہے ہیں۔ چھٹے دور کے مذاکرات اتوار کو مسقط میں متوقع ہیں، جب کہ امریکا نے بحرین و عراق سے غیر سفارتی عملے کو واپس بلانے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرملزم ظاہر جعفر نور مقدم کا بے رحم قاتل ہے ،کسی ہمدردی کا مستحق نہیں،سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ جاری اسرائیلی پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا بل مسترد، نیتن یاہو کیخلاف اپوزیشن کو ناکامی وزیراعظم نے چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی و دیگر کی تنخواہوں میں اضافے کا نوٹس لے لیا ترکیے 48 جدید ترین کان لڑاکا طیارے انڈونیشیا کو فروخت کریگا: ترک صدرکا اعلان اسرائیلی پارلیمنٹ کی تحلیل کے لیے ابتدائی ووٹنگ آج ہوگی ٹرمپ نے چین امریکا تجارتی معاہدہ ہونے کا اعلان کردیا امن کے لیے امریکا کو انڈیا کو کان سے پکڑ کر مذاکرات کی میز پر لائے، بلاول بھٹوCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔