ایئر انڈیا کا طیارہ احمد آباد ایئرپورٹ کے قریب حادثے کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
ابتدائی معلومات کے مطابق طیارے میں 242 مسافر سوار تھے، ایئر انڈیا بوئنگ 787 کو حادثہ ٹیک آف کے دوران پیش آیا جب طیارہ لندن کے لیے روانہ ہو رہا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ ایئر انڈیا کی ایک پرواز جمعرات کو احمد آباد ایئرپورٹ کے قریب حادثے کا شکار ہو گئی۔ طیارے میں 242 مسافر سوار تھے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق ایئر انڈیا بوئنگ 787 کو حادثہ ٹیک آف کے دوران پیش آیا جب طیارہ لندن کے لیے روانہ ہو رہا تھا۔ حادثے کی وجوہات ابھی تک سامنے نہیں آ سکیں اور حکام کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں۔ انتظامیہ نے ایئرپورٹ کے آس پاس کی تمام سڑکوں کو بند کر دیا ہے اور ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ چکی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایئر انڈیا
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔