شیرخوار بچے کی بیرون ملک اسمگلنگ، مرکزی ملزمہ اور دو لیڈی ڈاکٹرز سمیت 5 گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
کراچی:
وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل نے 9 ماہ کے شیر خوار بچے کو جنوبی افریقہ اسمگل کرنے کے الزام میں مرکزی ملزمہ سمیت جعلی ماں اور باپ کے سپرد کرنے والی دولیڈی ڈاکٹرز سمیت 5 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کےمطابق ذرائع نے بتایا کہ ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ کی کارروائی میں گرفتار ایک لیڈی ڈاکٹر کراچی میں ایک این جی او کی سربراہ اور دوسری ذاتی کلینک چلاتی ہے۔
ایف آئی اے ذرائع نے بتایا کہ مقدمے میں مرکزی ملزمہ یاسمین، موزمبیق کے شہری سویل اور سہیل سمیت بچے کی جعلی ماں کرن اور اس کا خاوند سہیل بھی نامزد ہیں۔
ایف آئی اے انسداد انسانی اسمگلنگ سرکل نے دو لیڈی ڈاکٹرز، دو خواتین اور ایک مرد سمیت پانچ ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ بچے اور اس کی جعلی ماں کے لیے جعلی دستاویزات، پاسپورٹ اور ویزے کے انتظام میں ملوث موزمبیق کے دو ملزمان کی گرفتاری کے لیے بھی کارروائی جاری ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ موزمبیق پہنچنے پر اسمگل شدہ بچے کو مبینہ رقم کے عوض وہیں موجود ایک فیملی کے حوالے کیا جانا تھا اور ملزمان نے خاتون کرن اور بچے کے سفری اخراجات ائیرلائن ٹکٹ اور ویزہ بھی موزمبیق میں موجود ملزمان سے حاصل کیےتھے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ ایف آئی اے امیگریشن نے کراچی ائرپورٹ پر شیرخوار بچے سمیت اس کی جعلی ماں کرن کو موزمبیق جاتے گرفتار کیا تھا۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان ایف آئی اے جعلی ماں بتایا کہ
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔