کراچی:

پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے نئی تاریخ رقم کر دی۔ وفاقی بجٹ کے بعد سرمایہ کاروں کے اعتماد اور مثبت توقعات کے باعث مارکیٹ زبردست تیزی کے  ساتھ ایک لاکھ 26 ہزار پوائنٹس کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

واضح رہے کہ بدھ کے روز کاروبار کا اختتام 100 انڈیکس میں 2328 پوائنٹس اضافے کے ساتھ ایک لاکھ 24 ہزار 352 پوائنٹس پر ہوا تھا، جو مارکیٹ کی اب تک کی بلند ترین سطح تھی،  تاہم آج جمعرات کے روز بھی مارکیٹ کا آغاز مثبت رجحان کے ساتھ ہوا اور ابتدا ہی میں 1233 پوائنٹس کے اضافے سے انڈیکس ایک لاکھ 25 ہزار 585 پوائنٹس کی سطح کو چھو گیا۔

بعد ازاں تیزی کا رجحان مستحکم رہا اور 100 انڈیکس میں مجموعی طور پر 1675 پوائنٹس کا زبردست اضافہ دیکھا گیا، جس کے ساتھ ہی مارکیٹ نے ایک لاکھ 26 ہزار 028 پوائنٹس کی نئی تاریخی بلندی عبور کر لی۔

اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کاروباری طبقے کو ممکنہ ریلیف، نئے ٹیکس نہ لگنے اور جاری معاشی اصلاحات کے تسلسل نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو تقویت دی ہے، جس کا اثر اسٹاک مارکیٹ پر بھرپور انداز میں ظاہر ہو رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ رجحان برقرار رہا تو ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے نہ صرف کیپٹل مارکیٹ بلکہ مجموعی معیشت کو بھی مثبت اثرات حاصل ہوں گے۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان پوائنٹس کی ایک لاکھ

پڑھیں:

آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔

وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔

حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔

حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔

وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ