بی آئی ایس پی کی پارٹنربینکوں کے ساتھ شدید گرم موسم کے پیش نظر سہ ماہی قسط کی موثرادائیگی کے حوالے سے اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
ملتان (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 13 جون2025ء) بینظیرانکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کی ریٹیل نیٹ ورک کے ذریعے بینظیر کفالت کی آئندہ سہ ماہی قسط کی تقسیم کے آپریشنل منصوبوں کا جائزہ لینےکے لیےپارٹنر بینکوں کے نمائندگان کے ساتھ اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔ ایڈیشنل سیکرٹری بی آئی ایس پی ڈاکٹرطاہر نور کی زیرصدارت بی آئی ایس پی کے ساؤتھ زونل آفس ملتان میں جمعہ کو اجلاس کا انعقاد ہوا۔
اجلاس کا انعقاد کیمپ سائٹ ڈسبرسمنٹ ماڈل سے ریٹیل نیٹ ورک ماڈل کی حالیہ منتقلی کےضمن میں کیا گیا،یہ تبدیلی ملک بھرمیں جاری شدید گرمی کی لہر کے پیش نظرکی گئی تاکہ مستحقین بالخصوص خواتین کو سخت موسمی حالات اور کھلے مقامات پرلمبے وقت تک انتظار سے بچایا جا سکے۔اجلاس کا مقصد سہ ماہی مالی امداد کی بروقت،شفاف اورباعزت ترسیل کو یقینی بنانا تھا۔(جاری ہے)
اجلاس کے اہم نکات میں نظام کی تشکیل،ریٹیل دکانوں پرنقد رقوم کی دستیابی،بائیومیٹرک تصدیق کے نظام کوبہتربنانا،شکایات کے مؤثرازالے کے طریقہ کاراوردیگراہم عناصر شامل تھے۔ایڈیشنل سیکرٹری بی آئی ایس پی ڈاکٹر طاہرنورنے تمام شراکت دار اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کی اہمیت پر زور دیا تاکہ سروس کے معیارکو بہتر بنایا جا سکے اورتقسیم کا عمل زیادہ سہل اورمؤثرہو۔اجلاس میں مستحقین کی خدمات کو بہتر بنانے،تاخیرکو کم کرنے،ادائیگیوں کےعمل میں شفافیت اورجوابدہی کو یقینی بنانے پربھی خصوصی زوردیا گیا۔شراکت دار بینکوں نے اس حوالے سے اپنے تیاری کی منصوبہ بندی پیش کی اوراپنے ریٹیل نیٹ ورک کی استعداد کو بڑھانے،لین دین کےعمل کوآسان بنانےاور رقوم کی تقسیم کے دوران بلا تعطل خدمات کی فراہمی کے لیے کیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔اجلاس کا اختتام تمام فریقین کی جانب سے سہ ماہی قسط کی مؤثر اور بروقت ادائیگی،مالی شمولیت اورسماجی تحفظ کے وسیع ترمقاصد کے حصول کے لیے مشترکہ عزم کے اعادے کے ساتھ ہوا۔یہ اجلاس بی آئی ایس پی کے رقوم کی تقسیم کے نظام کو بہتربنانے کی مسلسل کوششوں کا عکاس ہےتاکہ مالی امداد باعزت اورمؤثرانداز میں مستحق خواتین تک پہنچائی جا سکے۔اجلاس میں زونل ڈائریکٹر ساؤتھ، نارتھ اور بی آئی ایس پی کے ڈپٹی ڈائریکٹرزبھی شریک ہوئے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بی آئی ایس پی اجلاس کا سہ ماہی
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔