حجتہ الاسلام عقیل حسین خان ایم ڈبلیو ایم مشہد مقدس کے دوبارہ صدر منتخب، علامہ شفقت شیرازی نے حلف لیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
تقریب کے اختتام پر مشہد مقدس کے نومنتخب صدر حجتہ الاسلام و المسلمین عقیل حسین خان نے مجلس کی قیادت کی جانب سے ان پر اعتماد اور ان کی نامزدگی پر چیئرمین مجلس وحدت مسلمیں علامہ راجا ناصر عباس جعفری، مسئول امور خارجہ علامہ ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی اور دیگر اراکین کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان شعبہ مشہد مقدس کے صدر کے انتخاب کے لیے شوری عمومی کا اجلاس دفتر مجلس وحدت مسلمین میں مرکزی سیکرٹری امور خارجہ حجة الاسلام والمسلمین علامہ ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ شوریٰ عمومی نے اراکین کی رائے شماری کے ذریعے صدر کے لیے چند نام تجویز کیے۔ انتخابی اجلاس کے ساتھ ساتھ دفتر مجلس وحدت مسلمین شعبہ مشہد مقدس میں عید سعید غدیر کی مناسبت سے ایک روح پرور جشن کا بھی انعقاد کیا گیا۔
جشن کے اختتام پر سیکرٹری امور خارجہ علامہ ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی نے چیئرمین مجلس وحدت مسلمین پاکستان حجۃ الاسلام والمسلمین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے ساتھ مشاورت کے بعد شوری عمومی میں مجوزہ ناموں میں سے باقاعدہ طور پر حجۃ الاسلام آغا عقیل حسین خان کے نام کا اعلان کیا۔ تقریب کا اختتام حلف برداری کی پر وقار تقریب سے ہوا، جس میں علامہ ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی نے نومنتخب صدر شعبہ مشہد مقدس سے حلف لیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ نئے صدر اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مجلس وحدت مسلمیں شعبہ مشہد کی ترقی کا باعث بنیں گے۔
تقریب کے اختتام پر مشہد مقدس کے نومنتخب صدر حجتہ الاسلام و المسلمین عقیل حسین خان نے مجلس کی قیادت کی جانب سے ان پر اعتماد اور ان کی نامزدگی پر چیئرمین مجلس وحدت مسلمیں علامہ راجا ناصر عباس جعفری، مسئول امور خارجہ علامہ ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی اور دیگر اراکین کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علامہ ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی عقیل حسین خان مشہد مقدس کے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔