تل ابیب میں دھماکوں کی آوازیں: ایران نے اسرائیلی حملوں کا جواب دیتے ہوئے 100 سے زائد میزائل داغ دیے
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تل ابیب: اسرائیل کے دارالخلافہ سمیت اسرائیل کے مختلف شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور فضاؤں میں خطرے کے سائرن گونج اٹھے جب کہ اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ ایران کی جانب سے میزائل حملہ کیا گیا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کےمطابق ایران نے اسرائیلی حملوں کا جواب دیتے ہوئے صیہونی ریاست پر 100 سے زائد میزائل فائر کیے، جس کے بعد تل ابیب سمیت دیگر اسرائیلی شہروں میں خطرے کے سائرن بجنے لگے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق ایرانی حملے کے جواب میں فضائی دفاعی نظام پوری طرح فعال کر دیا گیا ہے اور بیشتر میزائلوں کو فضا میں ہی ناکارہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، فوج نے اسرائیلی شہریوں کو حکم دیا ہے کہ وہ تا حکمِ ثانی محفوظ مقامات پر رہیں اور غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں۔
عینی شاہدین کے مطابق تل ابیب میں مختلف مقامات پر دھماکوں کی گونج سنی گئی جب کہ شہر کے مختلف علاقوں میں دھویں کے بادل بھی اٹھتے دیکھے گئے۔ مقبوضہ بیت المقدس میں بھی زوردار دھماکوں کی آوازیں رپورٹ ہوئیں، جس سے شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ایران کی جانب سے ایک منظم کارروائی کا حصہ ہے جس میں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کیا گیا، متعدد میزائلوں کو راستے میں ہی روک لیا گیا، کچھ اہداف پر حملے کی اطلاعات ہیں جن کی نوعیت اور نقصانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایران نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے اسرائیل کے اُس “پیشگی فضائی حملے” کا ردعمل قرار دیا ہے جس میں ایرانی فوج کے سینئر کمانڈرز اور نیوکلیئر سائنسدان مارے گئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: دھماکوں کی تل ابیب
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔