کراچی الیکٹرک کارپوریشن کی نارتھ کراچی دعا لان میں کھلی کچہری
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر)بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے نیو کراچی ٹاؤن کے عوام پریشان۔ عوامی شکایات کے ازالے کے لیے کراچی الیکٹرک کارپوریشن کی جانب سے نارتھ کراچی سیکٹر 11-A دعا لان میں کھلی کچہری کا انعقاد۔ ٹاؤن وائس چیئرمین شعیب بن ظہیر کی کھلی کچہری میں خصوصی شرکت۔کھلی کچہری میں نیو کراچی ٹاؤن کے مختلف سیکٹر زسے عوام کی شرکت، منتخب یوسی چیئرمیز،وائس چیئرمیز،یوسی پینل کے اراکین،وارڈ کونسلر اور علاقہ معززین کی بڑی تعداد موجود تھی۔معززین نیو کراچی ٹاؤن نے وائس چیئرمین شعیب بن ظہیر کو علاقے کے مسائل سے آگاہی دیتے ہوئے کہا کہ کراچی کی عوام سے اضافی ٹیکس وصول کرکے بنیادی سہولیات‘ بجلی،پانی اور گیس سے محروم کرنا سراسر ناانصافی ہے جبکہ کے الیکٹرک کی جانب سے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے زندگی اجیرن ہوگئی ہے۔ حالیہ گرمی میں بھی کئی کئی گھنٹے لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے جبکہ کراچی کے عوام سے بھر پور اضافی ٹیکس بھی وصول کیا جارہا ہے۔ نیو کراچی ٹاؤن زرینہ کالونی اور شاہ نواز بھٹوکالونی میں 16 سولہ گھنٹے لائٹ نہیں ہوتی جبکہ کے الیکٹرک کی جانب سے غیر قانونی طور پر لگائے گئے پتھاروں اور گنے کے جوس کی مشینوں کو کنڈا دیا گیا ہے، یہ بجلی کس مد میں استعمال کررہے ہیں؟ کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ ٹاؤن وائس چیئرمین شعیب بن ظہیر نے عوامی مسائل سے آگاہی حاصل کی اور کے الیکٹرک کی جانب سے منعقدہ کھلی کچہری میں عوامی مسائل پر شدید تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ عوام کی شکایات بہت زیادہ ہیں۔ بجلی صارفین سے اضافی بلوں کی وصولی بھی کی جارہی ہے جس سے غریب عوام سخت اذیت میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر غیر اعلانیہ اور طویل لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا جائے تاکہ عوام سکھ کا سانس لے سکیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نیو کراچی ٹاو ن کھلی کچہری کی جانب سے
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔