افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا دوسرا جہاز گوادر پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
گوادر:افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت دوسرا جہاز گوادر پورٹ پر لنگر انداز ہو گیا۔ وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار کے مطابق بندرگاہ پر تجارتی سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت دوسرا بحری جہاز کامیابی سے گوادر پورٹ پر پہنچ گیا۔ جہاز 20 ہزار ٹن کھاد لے کر گوادر بندرگاہ پر لنگر انداز ہوا۔ فروری کے بعد یہ دوسرا افغان ٹرانزٹ شپمنٹ ہے جو گوادر کے ذریعے ہوا۔
وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے عالمی اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گوادر پورٹ خطے کے لیے اہم تجارتی گیٹ وے بنتا جا رہا ہے۔ گوادر کے ذریعے افغانستان کی عالمی منڈیوں تک رسائی بہتر ہوگی۔
جنید انوار کے مطابق تجارتی سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ پاکستان اور افغانستان کے باہمی تعلقات کو مضبوط کر رہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ گوادر کے استعمال سے ٹرانزٹ اخراجات میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: افغان ٹرانزٹ
پڑھیں:
بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی خطے میں بحری جہازوں، کارگو اور متعلقہ سامان کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے امریکا اپنی تحویل میں موجود منجمد ایرانی اثاثوں سے ادائیگی کرے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ آئندہ کسی بھی بحری جہاز، کارگو یا اس سے متعلق املاک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اس کا مالی ازالہ ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا، جو امریکا کے کنٹرول میں ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آج سے اور آئندہ اطلاع تک، بحری جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی نقصان کی ادائیگی امریکا کی تحویل میں موجود ایرانی رقم سے کی جائے گی۔‘
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ ہفتوں میں متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔
اگرچہ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ایرانی اثاثوں یا کتنی رقم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم امریکا ماضی سے مختلف پابندیوں کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے منجمد کیے ہوئے ہے۔
pic.twitter.com/Lbev6wPsNZ
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 23, 2026ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس اعلان پر عملی اقدامات کرتا ہے تو اس سے ایران اور امریکا کے درمیان قانونی اور سفارتی تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بین الاقوامی قوانین، مالیاتی ضوابط اور خودمختار ریاستوں کے اثاثوں سے متعلق نئے سوالات بھی جنم لے سکتے ہیں۔