امریکا کے جدید فضائی دفاعی نظام اور بحری جنگی جہاز نے اسرائیل کیخلاف داغے گئے ایرانی بیلسٹک میزائلوں کو کامیابی سے تباہ کر دیا، یہ میزائل حملے ایران کی جانب سے اُس جوابی کارروائی کے تحت کیے گئے تھے، جو اسرائیل کے ایران میں جوہری تنصیبات اور اعلیٰ فوجی کمانڈرز پر حملوں کے ردعمل کے طور پر سامنے آئی تھی۔

امریکی حکام کے مطابق، امریکا کے فضائی دفاعی نظام اور بحری افواج نے ایرانی میزائلوں کو راستے میں ہی تباہ کر دیا، جس سے خطے میں ایک ممکنہ بڑے تصادم کا خطرہ وقتی طور پر ٹل گیا۔

امریکا کے پاس مشرق وسطیٰ میں زمین پر تعینات پیٹریاٹ اور ٹرمینل ہائی آلٹیٹیوڈ ایریا ڈیفنس جیسے جدید میزائل شکن نظام موجود ہیں، جنہیں بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں تباہ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: آپریشن وعدہ صادق 3: ایران کا اسرائیل پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ، درجنوں اسرائیلی زخمی

ان کے علاوہ ایک امریکی بحری تباہ کن جہاز، جو مشرقی بحر روم میں موجود تھا، نے بھی اسرائیل کی طرف بڑھنے والے ایرانی میزائلوں کو ہدف سے پہلے روک کر تباہ کر دیا۔

امریکی افواج اس وقت بھی خطے میں متحرک ہیں اور صورتحال کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہی ہیں، امریکی بحریہ نے اپنے جہاز یو ایس ایس تھامس ہڈنر کو مغربی بحر روم سے مشرقی سمت روانہ کر دیا ہے تاکہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں دفاعی کردار ادا کر سکے۔

ایک اور تباہ کن بحری جہاز کو بھی ممکنہ تعیناتی کے لیے آگے بڑھنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، امریکی لڑاکا طیارے مشرق وسطیٰ کی فضاؤں میں گشت کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا بروقت مقابلہ کیا جا سکے، جب کہ خطے میں موجود امریکی فضائی اڈوں پر سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: ایران کے جوہری مراکز پر اسرائیلی حملہ، انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کا ردعمل آگیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سلسلے میں قومی سلامتی کونسل کے اعلیٰ حکام سے مشاورت کی اور صورتحال کا بغور جائزہ لیا۔ حکام کے مطابق، ان فیصلوں سے متعلق تمام تفصیلات فی الحال منظر عام پر نہیں لائی جا رہیں، تاہم امریکی افواج نے کئی دن پہلے ہی احتیاطی اقدامات شروع کر دیے تھے، جن میں علاقائی اڈوں پر موجود فوجی اہلکاروں کے اہل خانہ کی رضاکارانہ روانگی شامل تھی۔

اس وقت مشرق وسطیٰ میں تقریباً 40,000 امریکی فوجی تعینات ہیں، جب کہ عام طور پر یہ تعداد 30,000 کے قریب ہوتی ہے۔ گزشتہ برس اکتوبر میں، جب اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا اور یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملے شروع ہوئے، تو خطے میں امریکی افواج کی تعداد 43,000 تک پہنچ گئی تھی۔

امریکی بحریہ کے پاس مزید عسکری وسائل، خاص طور پر طیارہ بردار بحری جہاز اور ان کے ہمراہ موجود جنگی جہاز، بھی موجود ہیں، جنہیں ضرورت پڑنے پر مشرق وسطیٰ کی طرف روانہ کیا جا سکتا ہے، اس وقت بحیرہ عرب میں موجود یو ایس ایس کارل ونسن خطے میں تعینات واحد امریکی طیارہ بردار جہاز ہے۔

مزید پڑھیں: اسرائیل کا ایران کی جوہری تنصیبات پر فضائی حملہ، کن مقامات کو ہدف بنایا گیا؟

یو ایس ایس نمٹز انڈو پیسفک خطے میں تعینات ہے، جبکہ یو ایس ایس جارج واشنگٹن نے حال ہی میں جاپان سے روانگی اختیار کی ہے اور اسے بھی اگر ضرورت ہوئی تو مشرق وسطیٰ کی طرف بھیجا جا سکتا ہے۔

یہ تمام اقدامات ایک ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی انتہائی سنگین سطح پر پہنچ چکی ہے، اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں ایران نے جوابی کارروائی کے طور پر بیلسٹک میزائلوں کا استعمال کیا، اور صورتحال نے خطے میں ایک وسیع تر جنگ کے امکانات کو جنم دیا ہے۔

یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ گزشتہ برس 7 اکتوبر کو جب حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا تھا، اس وقت کے صدر جو بائیڈن نے اسرائیل کے دفاع کے لیے مشرق وسطیٰ میں امریکی بحری جہاز روانہ کیے تھے تاکہ ایران یا حزب اللہ کی مداخلت کو روکا جا سکے۔ بعد ازاں، یکم اکتوبر 2024 کو ایران نے اسرائیل پر 200 سے زائد میزائل داغے تھے، جن میں سے کئی کو امریکی بحری جہازوں نے فضا میں تباہ کر دیا تھا۔

مزید پڑھیں: اسرائیلی حملہ: امریکا اور یو اے ای کی ایران سے تحمل برتنے کی اپیل، عرب ممالک کی شدید مذمت

موجودہ صورتحال نے مشرق وسطیٰ کے جغرافیائی سیاسی منظرنامے کو مزید پیچیدہ اور خطرناک بنا دیا ہے، اور عالمی برادری کی نظر اب اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا موجودہ بحران کو سفارتی تدبیر سے روکا جا سکتا ہے یا نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکی بحری جہاز امریکی بحریہ امریکی صدر بحیرہ عرب بیلسٹک میزائلوں ڈونلڈ ٹرمپ قومی سلامتی کونسل لڑاکا طیارے مشرق وسطیٰ یمن یو ایس ایس جارج واشنگٹن یو ایس ایس کارل ونسن یو ایس ایس نمٹز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکی بحری جہاز امریکی بحریہ امریکی صدر بیلسٹک میزائلوں ڈونلڈ ٹرمپ قومی سلامتی کونسل لڑاکا طیارے یو ایس ایس جارج واشنگٹن یو ایس ایس کارل ونسن یو ایس ایس نمٹز بیلسٹک میزائلوں امریکی بحری میزائلوں کو تباہ کر دیا نے اسرائیل اسرائیل پر یو ایس ایس بحری جہاز کے لیے

پڑھیں:

امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔

منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔

سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان