اسرائیل نے ایران پر نہیں عالم اسلام پر حملہ کیا، مفتی گلزار نعیمی کا انٹرویو میں دبنگ اعلان
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
اسلام ٹائمز کیساتھ انٹرویو میں مفتی گلزار نعیمی کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے ایران پر نہیں، پورے عالمِ اسلام پر حملہ کیا ہے، اگر فیصلہ کن جنگ ہوئی تو پاکستان کو بھرپور ساتھ دینا ہوگا، یہ صرف ایران کا نہیں، امت مسلمہ کا مسئلہ ہے اور اب خاموشی کا وقت نہیں رہا، غزہ کے مظلوموں کا عملی ساتھ نہیں دیا، اب تہران کا دیں۔ متعلقہ فائیلیںمفتی گلزار احمد نعیمی ایک ممتاز پاکستانی عالمِ دین، خطیب اور مذہبی اسکالر ہیں۔ وہ اہلِ سنت و الجماعت (بریلوی مکتبِ فکر) سے تعلق رکھتے ہیں اور مذہبی، سماجی اور بین المذاہب ہم آہنگی کے حوالے سے سرگرم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ مفتی گلزار احمد نعیمی نے اسلامی علوم میں تخصص حاصل کیا اور فقہ، تفسیر اور حدیث میں مہارت رکھتے ہیں۔ وہ مختلف دینی و علمی فورمز میں اسلامی تعلیمات کی ترویج اور عصرِ حاضر کے مسائل کے حل کیلئے اپنی آراء پیش کرتے رہتے ہیں۔ وہ جماعتِ اہلِ حرم پاکستان کے سربراہ ہیں، جو کہ ایک مذہبی و سماجی تنظیم ہے اور محافلِ میلاد، کانفرنسز اور اتحادِ امت کیلئے کام کرتی ہے۔ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر کئی بین المذاہب ہم آہنگی کی کانفرنسز میں پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں۔ مفتی گلزار احمد نعیمی نے ہمیشہ مذہبی رواداری، امن اور اتحاد بین المسلمین پر زور دیا ہے۔ وہ مختلف عقائد کے مابین ہم آہنگی قائم کرنے کیلئے کوشاں رہے ہیں اور اسلام کی امن و آشتی کی تعلیمات کو اجاگر کرتے ہیں۔ اسلام ٹائمز کے نمائندے نادر بلوچ نے ایران پر اسرائیلی جارحیت اور ایران کی شاندار جوابی کارروائی پر مفتی گلزار نعیمی سے خصوصی انٹرویو کیا گیا ہے، جو پیش خدمت ہے۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ) https://www.
youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مفتی گلزار
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔