اسرائیل کے ایران پر دوسرے روز بھی حملے،مزید 2 جنرلز ،3 جوہری سائنسدانوں سمیت 65 شہری شہید
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تل ابیب/تہران/نیویارک /بیجنگ (صباح نیوز/ صباح نیوز/مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیل کے ایران پر تازہ حملے میں مزید2 جنرلز، 3 جوہری سائنسدانوں اور20 بچوں سمیت 65 ایرانی شہری شہید ہوگئے۔ ایرانی نیم سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم کے مطابق اسرائیلی حملوں میں3 ایرانی جوہری سائنسدان مارے گئے، جن کی شناخت علی بقائی کریمی، منصور عسگری اور سعید برجئی کے نام سے کی گئی۔ ایران نے ہفتے کو اسرائیل پر پانچواں بڑا میزائل حملہ کیا، تازہ حملے میں درجنوں میزائل داغے گئے جس کے نتیجے میں6 اسرائیلی ہلاک اور 170 سے زاید زخمی ہوئے ہیں‘ متعدد عمارتیں تباہ ہوگئیں جبکہ ایران نے ایک گھنٹے میں 10 جنگی طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے جس کے بعد اسرائیل کے مار گرائے گئے طیاروں کی تعداد 13ہوگئی ہے ‘ 70 اسرائیلی طیارے ایران میں داخل ہوئے تھے۔ ایران نے مزید100 میزائل تل ابیب ، گش دان اور دیگر شہروں فائرکردیے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق دھماکوں کی آوازیں تل ابیب، یروشلم اور گش دان میں سنی گئیں جس سے شہریوں میں خوف وہراس پھیل گیا اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی۔ تل ابیب میں اسرائیلی جوہری تحقیقی مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ پاسداران انقلاب کے مطابق آپریشن وعدہ صادق 3 میں اسرائیل میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے اور اسرائیل پر300 سے زاید میزائل داغے جا چکے ہیں۔ ایران نے اسرائیل کے 2ایف 35اسٹیلتھ جنگی طیارے بھی مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایران نے 200بیلسٹک میزائل داغے ہیں جن میں سے متعدد کو فضا میں ہی ناکارہ کر دیا گیا۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایران کی جانب سے داغے گئے میزائل تل ابیب میں مختلف مقامات پر گرے جبکہ گش دان میں بھی 2 ایرانی میزائل گرنے کی اطلاعات ہیں جس کے نتیجے میں شدید آگ بھڑک اٹھی۔ اسرائیل میں وزارت دفاع کے ہیڈکوارٹر کے نزدیک آگ اور دھواں دیکھا گیا ہے۔ سائرن بجتے ہی اسرائیلی شہری زیر زمین بنے بنکرز کی جانب دوڑ پڑے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں ایران کے 2 سینئر جنرل شہید ہو گئے ہیں، جب کہ اسرائیل نے ایران کی فوجی اور جوہری صلاحیتوں پر اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔صہیونی فوج کی جانب سے ہرمزگان، کرمانشاہ، مغربی آذربائیجان، لرستان، خوزستان میںایران کی زیرزمین میزائل تنصیبات کو بھی نشانہ بنا نے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے ایران کے توانائی انفرااسٹرکچر پر حملے شروع کر دیے۔ دنیا کے سب سے بڑے قدرتی گیس فیلڈ، کئی آئل فیلڈز اور ریفائنریوں کو نشانہ بنایا۔ بوشہر میں جنوبی پارس گیس فیلڈ پر بمباری کے بعد آگ لگ گئی۔ ایرانی حکام نے تیل تنصیبات کو نشانہ بنانے کو سنگین جنگی مرحلہ قرار دیدیا اور کہا کہ توانائی انفرااسٹرکچر پر حملے جاری رہے تو یہ تنازع کا نیا اور خطرناک موڑ ہوگا‘ تیل تنصیبات پر حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا اور تہران اسرائیلی معاشی اہداف کونشانہ بناسکتا ہے۔اسرائیلی فوج نے ایران پر حملوں میں 20 سے زاید ایرانی کمانڈر شہید کرنے کا دعویٰ کیا ہے ‘ نیتن یاہو نے جلد تہران پر بڑا حملہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔اسرائیلی وزیراعظم نے ویڈیو پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے دھمکی دی کہ جلد اسرائیلی طیارے تہران کی فضاؤں میں ہوں گے۔ان کا مزید کہنا تھاکہ ایران کو ایسا جواب دیں گے جس کا ان کی قیادت نے تصور بھی نہیں کیا ہوگا اور آیت اللہ حکومت ہر جگہ پر نشانہ ہوگی۔نیتن یاہو کا کہنا تھاکہ ایران پر اسرائیل کے حملوں کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج ( آئی ڈی ایف) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کی اصفہان نیوکلیئر سائٹ پر حملہ کر کے اہم تنصیبات اور لیبارٹریز کو تباہ کر دیا ہے، مزید دو ایرانی جنرل کو بھی مار دیا گیا ہے۔آئی ڈی ایف کے مطابق اصفہان میں سرگرمیاں واضح طور پر ظاہر کرتی ہیں کہ ایران ہتھیاروں کے لیے یورینیم افزودہ کر رہا تھا، تہران کے راستے کو ’صاف‘ کر لیا ہے اور اب اسرائیلی فضائیہ تہران کی فضاؤں میں آزادانہ کارروائیاں کرنے کے لیے تیار ہے۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ ایرانی جوہری سائنسدانوں، فوجی حکام، اور میزائل لانچنگ سسٹمز کو بھی نشانہ بنا رہا ہے، اور کارروائیاں جاری رکھے گا۔ اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ ایران نے اسرائیل کے حملوں کے جواب میں بیلسٹک میزائلوں سے شہری علاقوں کو نشانہ بنا کر ریڈ لائن عبور کی ہے۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ ایران نے اسرائیل میں شہری آبادی کے مراکز پر میزائل فائر کرنے کی جرأت کرکے ریڈ لائن عبور کی ہے‘ آیت اللہ حکومت کو اپنے گھنائونے اقدامات کی بہت بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے دوٹوک اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ صہیونی ریاست کو صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے‘ اسرائیل کا جرم ناقابل معافی ہے‘ دشمن پر کاری ضرب لگائی جائے گی‘ اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، اسرائیل کو بھاگنے نہیں دیں گے، مفلوج کرکے دم لیں گے۔ ایرانی سپریم لیڈر نے بیان میں کہا کہ طاقت کی زبان کے سوا کسی اور زبان میں اسرائیل سے بات ممکن نہیں‘ جنگ کی شروعات اسرائیل نے کی لیکن اس کا اختتام ایران لکھے گا۔ پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈر جنرل احمد واحدی نے کہا ہے کہ اسرائیل کو سمجھ آ گیا ہوگا کہ ایران پوری قوت کے ساتھ جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایرانی میڈیا سے گفتگو کے دوران سربراہ پاسدارانِ انقلاب جنرل واحدی نے کہا کہ آپریشن میں اسرائیل کے اہم فضائی اڈے اور صنعتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے، مجموعی طور پر اسرائیل پر میزائل حملوں میں150 سے زاید اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا، آئندہ بھی ایسے جوابی اقدامات دہرائے جا سکتے ہیں‘ تل ابیب میں وزارتِ دفاع، صنعتی اور فوجی مراکز بھی براہِ راست ایرانی حملے کا نشانہ بنے ہیں۔پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل پر جلد ہی ”خیبر” میزائل داغے جائیں گے، جس کے اثرات دیکھ کر دنیا حیران رہ جائے گی۔ پاسدارانِ انقلاب کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی افواج اسرائیل میں اُن مخصوص اہداف کو نشانہ بنا رہی ہیں جہاں سے ایران اور فلسطین کے خلاف جارحیت کی جا رہی ہے‘ ”آپریشن وعدہ صادق سوم” کے تحت اسرائیلی فوجی تنصیبات، اسلحہ ساز فیکٹریوں اور فوجی اڈوں پر میزائل حملے جاری ہیں۔ پاسداران انقلاب کے مطابق اسرائیلی حکام کے دعووں کے برعکس ایرانی میزائل اپنے اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں ایرانی مندوب عامرسعید نے کہا ہے کہ امریکا اسرائیل کو حملے میں مدد دینے میں ملوث ہے‘ ہم یہ نہیں بھولیں گے کہ اسرائیلی حملوں میں امریکی ہتھیاروں سے ہمارے لوگوں کی جانیں گئیں۔ ایران اسرائیل تنازع پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں ایرانی مندوب عامرسعید نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہیں، اسرائیل کی جانب سے ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی گئی، اسرائیل مسلسل جنیوا کنونشن اور عالمی قوانین کی دھجیاں اڑا رہا ہے‘ اسرائیل میں دنیاکی خطرناک اوردہشت گردحکومت ہے، فلسطینیوں کی نسل کشی مہم جاری رکھے ہوئے۔ ایران نے برطانیہ، فرانس اور امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر ان ممالک نے جاری جنگ میں اسرائیل کے کا دفاع کیا تو ایسی صورت میں پھر تہران ان ممالک کے خطے میں موجود فوجی اڈوں کو ہدف بنائے گا۔ ایران نے ان تینوں ممالک سے کہا ہے کہ وہ اسرائیل پر ایرانی جوابی حملوں کو روکنے میں نیتن یاہو کی کسی بھی قسم کی مدد کرنے سے باز رہیں۔ چین کے وزیر خارجہ نے مشرق وسطیٰ کی کشیدہ حالت پر ایران اور اسرائیلی وزرائے خارجہ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس گفتگو کا مقصد مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو یقین دلایا کہ آپ کے جائز حقوق اور مفادات کے دفاع میں آپ کا ساتھ دیں گے‘ چین خطے میں امن اور استحکام کے لیے تمام فریقین کو تحمل اور صبر کا مظاہرہ کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ بعد ازاں چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے اسرائیلی وزیر خارجہ سے بھی گفتگو کی اور دوٹوک انداز میں باور کرایا کہ ایران پر طاقت کے استعمال کی مخالفت کرتے ہیں۔ عراق نے کہا ہے کہ امریکا اسرائیل کو ایران پر حملے کے لیے ہماری فضائی حدود استعمال کرنے سے روکے۔
ایران کے اسرائیل پر میزائل حملوںسے ملبے کا ڈھیر بننے والی عمارتیں ، تباہ ہونیوالی ایک بلڈنگ کے باہر اسرائیلی جمع ہیں، طبی عملہ زخمی ہونیوالی خاتون کوامداد فراہم کررہاہے جبکہ ریسکیو اہلکار عمارت میں لگی آگ بجھانے میں مصروف ہیں،حملے کے باعث دھوئوں کے بادل اٹھ رہے ہیں، چھوٹی تصویر میں اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والے ایرانی فوجی افسران کی یادگار فوٹو
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نشانہ بنایا گیا اسرائیلی فوج میں کہا کو نشانہ بنا نے کہا ہے کہ میں اسرائیل اسرائیل میں اسرائیل کو نے اسرائیل اسرائیل کے کہ اسرائیل اسرائیل پر کے مطابق ا کی جانب سے نے کا دعوی حملوں میں انقلاب کے ایران کی کہ ایران اہداف کو ایران پر حملے میں نے ایران ایران کے ایران نے پر حملے تل ابیب سے زاید کے وزیر کیا ہے کے لیے کو بھی گیا ہے دیں گے
پڑھیں:
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
اسرائیلی نژاد امریکی صحافی اور محقق ڈاہلیا شائنڈلن نے 9 مئی 2026 کو برطانوی اخبار گارڈین میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ ’نیتن یاہو جس شدت سے امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کی مثالی نوعیت پر زور دے رہے ہیں، اس سے مجھے خدشہ ہوتا ہے کہ شاید پسِ پردہ کشیدگی کہیں زیادہ ہے۔
انہوں نے لکھا کہ ایران کو لے کر امریکا اور اسرائیل کے اہداف بظاہر ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں، لیکن یہ اہداف سفارت کاری کے ذریعے حاصل کیے جائیں یا فوجی کارروائیوں کے ذریعے، اس پر اختلافات سامنے آتے دکھائی دیتے ہیں۔
تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آیا امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کو مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے والی فوجی کارروائیوں سے روک پائیں گے؟ اسی کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہے کہ امریکا میں اسرائیل کی حمایت میں کتنی کمی آ رہی ہے؟‘
ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان تلخ کلامیامریکا اور ایران کے درمیان تنازعے کے حل میں جوں جوں تاخیر ہو رہی ہے، دونوں جانب اعصابی تناؤ بڑھتا جا رہا ہے، جبکہ اس تنازعے کی بنیادی وجوہات میں شامل اسرائیلی رویے میں کوئی واضح تبدیلی نظر نہیں آتی۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا اور اسرائیل کی ایران پر یلغار کے بیچ غزہ میں انسانی بحران مزید سنگین ہوگیا
غزہ میں نہتے اور معصوم شہریوں کے قتلِ عام کے بعد اسرائیل اب لبنان میں بھی اسی نوعیت کی فوجی کارروائیاں کر رہا ہے، جنہیں خطے میں قیامِ امن کے لیے نقصان دہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یورپ پہلے ہی اسرائیل کی فعال فوجی حمایت سے بڑی حد تک پیچھے ہٹ چکا ہے، جبکہ امریکا، جو اسرائیل کا سب سے بڑا پشت پناہ سمجھا جاتا ہے، اندرونی معاشی دباؤ اور بدلتی ہوئی عوامی رائے کے باعث اب زیادہ عرصے تک اسی سطح کی غیر مشروط حمایت جاری رکھنے کی پوزیشن میں دکھائی نہیں دیتا۔
اس تاثر کو تقویت گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی مبیّنہ تلخ کلامی سے ملی۔ اس سے ایک روز قبل ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ جنگ بندی کا مطلب تمام محاذوں، بشمول لبنان، میں جنگ بندی ہے۔ اسرائیلی حملوں کے تناظر میں ان کا مؤقف تھا کہ لبنان پر اسرائیلی حملے خطے میں امن کے قیام کے لیے نقصان دہ ہیں۔
بعد ازاں ایک امریکی ویب سائٹ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ’پاگل‘ قرار دیا اور لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو امریکی سفارتی کوششوں کے لیے انتہائی نقصان دہ قرار دیا۔ بعض ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے سخت لہجے میں پوچھا ’تم آخر کر کیا رہے ہو؟‘ جبکہ ایک ذریعے نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکی صدر نے کہا کہ ’اب سبھی اسرائیل سے نفرت کرتے ہیں‘۔
اس مبیّنہ تلخ کلامی نے واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات کے مستقبل کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں اور ایران کے ساتھ جاری امریکی مذاکرات کو لاحق خطرات کے باعث دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو غیر معمولی حد تک تلخ رہی۔
اختلافات کی اصل وجہ کیا ہے؟یہ کشیدگی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب واشنگٹن ایران کے ساتھ کسی ممکنہ سفارتی پیش رفت کا خواہاں دکھائی دیتا ہے، جبکہ نیتن یاہو حکومت ایران، حزب اللہ اور خطے میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
امریکی سابق سفارت کار اور مشرقِ وسطیٰ امور کے ماہر آرون ڈیوڈ ملر نے جنوری 2026 میں کارنیگی ادارۂ امنِ عالم میں شائع ہونے والے ایک تجزیے میں لکھا کہ ٹرمپ کو نیتن یاہو پر ایسا اثر و رسوخ حاصل ہے جو حالیہ برسوں میں کسی امریکی صدر کو حاصل نہیں رہا۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی قیادت کے لیے امریکی ترجیحات کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا آسان نہیں رہا۔
کیا امریکا اور اسرائیل کے تعلقات میں دراڑ پڑ رہی ہے؟راقم الحروف نے اس موضوع پر کئی سفارت کاروں سے گفتگو کی، جن کا کہنا تھا کہ امریکا کے اندر اسرائیلی لابی اب بھی بہت مضبوط ہے، اس لیے فوری طور پر ایسا دکھائی نہیں دیتا کہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہو جائیں۔ تاہم امریکا میں اسرائیل کے خلاف بڑھتی ہوئی عوامی ناراضی غیر معمولی ہے، جس کی ماضی میں مثال کم ہی ملتی ہے۔
ان کے مطابق ممکن ہے کہ مستقبل میں امریکا کے لیے اسرائیل کو وہی سطح کی سیاسی، سفارتی اور عسکری حمایت فراہم کرنا زیادہ عرصے تک ممکن نہ رہے جو وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے کرتا آ رہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات محض 2 رہنماؤں کی ذاتی قربت پر قائم نہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، انٹیلی جنس شراکت داری، اربوں ڈالر کی فوجی امداد اور خطے میں مشترکہ تزویراتی مفادات موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر ماہرین اس واقعے کو تعلقات کے خاتمے کے بجائے پالیسی اختلافات کی علامت قرار دے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں:برازیلی صدر کی اسرائیل کو ہٹلر سے تشبیہ، غزہ پر جنگ نسل کشی قرار
ڈاہلیا شائنڈلن کے مطابق نیتن یاہو جس شدت سے امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کو مثالی قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ خود اس بات کا اشارہ ہے کہ پسِ پردہ تناؤ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے۔ ان کے مطابق غزہ، لبنان اور ایران کے معاملات پر اسرائیلی حکومت کی حکمتِ عملی نہ صرف بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ کر رہی ہے بلکہ واشنگٹن میں بھی بے چینی پیدا کر رہی ہے۔
کیا اسرائیل امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟شاید یہی وہ سوال ہے جو آج امریکی خارجہ پالیسی کے حلقوں میں سب سے زیادہ زیرِ بحث ہے۔ 1948 میں اسرائیل کے قیام سے لے کر کئی دہائیوں تک، بلکہ حالیہ برسوں تک، اسرائیل کو امریکا میں تقریباً غیر متنازع حمایت حاصل رہی۔ ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتیں اسرائیل کی سلامتی کو امریکی قومی مفاد کا حصہ قرار دیتی رہی ہیں۔ تاہم غزہ جنگ کے بعد یہ منظرنامہ تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
2024 اور 2025 کے دوران کولمبیا جامعہ، ہارورڈ جامعہ اور کیلیفورنیا جامعہ لاس اینجلس سمیت متعدد امریکی جامعات میں فلسطین کے حق میں بڑے احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ ہزاروں طلبہ نے اسرائیل کو دی جانے والی امریکی فوجی امداد روکنے کا مطالبہ کیا، جبکہ کئی مقامات پر پولیس مداخلت اور گرفتاریاں بھی ہوئیں۔ ان واقعات نے فلسطین اور اسرائیل کے مسئلے کو پہلی مرتبہ امریکی داخلی سیاست کے ایک اہم موضوع میں تبدیل کر دیا۔
متعدد جائزوں سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ نوجوان امریکی ووٹرز، خصوصاً 35 سال سے کم عمر افراد، اسرائیلی پالیسیوں کے بارے میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ تنقیدی رویہ رکھتے ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند حلقوں میں یہ مؤقف مضبوط ہو رہا ہے کہ اسرائیل کی ہر پالیسی کی غیر مشروط حمایت امریکا کے مفاد میں نہیں۔
جب راقم الحروف نے یہ سوال ایک پاکستانی نژاد امریکی صحافی کے سامنے رکھا تو ان کا کہنا تھا کہ نوجوان امریکیوں کی ایک بڑی تعداد اسرائیلی پالیسیوں کی ناقد بن چکی ہے، جبکہ 60 سال سے زیادہ عمر کے افراد اب بھی عمومی طور پر اسرائیل کے زیادہ حامی دکھائی دیتے ہیں۔
اصل مسئلہ اسرائیل ہے یا نیتن یاہو؟یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ بیشتر ماہرین کے مطابق مسئلہ اسرائیل کا وجود یا امریکا کے ساتھ اس کا اتحاد نہیں، بلکہ نیتن یاہو حکومت کی بعض پالیسیاں ہیں جو واشنگٹن کے لیے سیاسی اور سفارتی اخراجات میں اضافہ کر رہی ہیں۔
امریکا میں اسرائیل کی سلامتی کی حمایت اب بھی مضبوط ہے، لیکن غزہ جنگ، لبنان میں کارروائیوں اور ایران کے خلاف سخت مؤقف کے باعث نیتن یاہو حکومت پر تنقید پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ کھل کر کی جا رہی ہے۔
ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی مبیّنہ سرزنش محض ایک ٹیلیفونک جھڑپ نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کے حوالے سے دو مختلف تزویراتی نقطۂ نظر کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کی علامت معلوم ہوتی ہے۔ ایک جانب واشنگٹن خطے میں کشیدگی کم کرکے سفارتی راستہ اپنانا چاہتا ہے، جبکہ دوسری جانب اسرائیلی حکومت ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی پر قائم ہے۔
اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آنے والے برسوں میں امریکا اور اسرائیل کے تعلقات ختم تو نہیں ہوں گے، تاہم ان کی نوعیت ضرور تبدیل ہو سکتی ہے، جہاں غیر مشروط حمایت کی جگہ زیادہ مشروط اور محتاط حمایت لے سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا۔ امریکی صدر ٹرمپ ڈونلڈ سرزنش نیتن یاہو