ایران- اسرائیل کیشدگی: امارات اور سعودی عرب کی ایئرلائنز نے پروازیں منسوخ کردیں
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
ایران اسرائیل کشیدگی اور فضائی حدود کی بندش کے باعث عرب امارات اور سعودی عرب کی ایئرلائنز نے اپنی پروازیں معطل کرنے کا اعلان کردیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ایمریٹس ایئرلائن نے عراق، اردن، لبنان، عمان اور ایران کے لیے اپنی پروازیں معطل کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اعلامیہ جاری کردیا۔
ایمرٹس کا کہنا ہے کہ علاقائی صورتحال کی وجہ سے تمام پروازیں عارضی طور پر معطل کی گئیں ہیں جبکہ اردن، عمان اور لبنان کے کئے اتوار 22 جون 2025 تک پروازیں بھی معطل کردی گئیں ہیں۔
اعلامیے کے مطابق ایران اور عراق کے پیر 30 جون 2025 تک پروازوں کو بند کردیا جبکہ دبئی سے عراق، ایران۔ اردن لبنان جانے والی کنیکٹنگ پروازوں کو بھی بند کردیا گیا ہے۔
ایئرلائن نے مسافروں سے اپیل کی ہے کہ وہ پرواز کی منسوخی پر دوبارہ بکنگ کیلیے ٹریول ایجنسی سے رابطہ کریں، اگر ٹکٹ بکنگ براہ راست ایمریٹس سے کروائی ہے تو براہ کرم ایمریٹس ایرلاین سے رابطہ کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر روانہ ہونے یا پہنچنے والے صارفین کو بھی مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ تازہ ترین معلومات کے لیے emirates.
پروازیں منسوخ ہونے پر ایئرلائن نے مسافروں سے معذرت بھی کی ہے۔
دوسری جانب ایئر عربیہ نے مسافروں کے لئے نئی اپ ڈیٹ جاری کی جس میں بتایا گیا ہے کہ 16 اور 17 جون کی ایران اور عراق کیلیے مختص تمام پروازیں منسوخ کردی گئیں ہیں۔
ایئرعربیہ کے مطابق 16 اور 17 جون کو روس، لبنان، قازقستان، آذربائیجان، ازبکستان کی پروازوں کو بھی منسوخ کردیا گیا ہے جبکہ فضائی بندش کے باعث راستہ تبدیل ہونے پر مختلف ملکوں کو جانے والی پروازیں بھی تاخیر کا شکار ہورہی ہیں۔
ایئر عربیہ کے مطابق ایران اور عراق کے لیے کنیٹکنگ پروازوں کے مسافروں کو بھی تاحکم ثانی سروس فراہم نہیں کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق کو بھی گیا ہے
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔