امریکا، ایران-اسرائیل جنگ میں شامل ہوسکتا ہے، ٹرمپ نے عندیہ دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ امریکا ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ میں شامل ہو سکتا ہے۔
امریکی ٹی وی کی سینئر صحافی ریچل اسکاٹ سے آف کیمرا گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ "یہ ممکن ہے کہ ہم ایران اور اسرائیل کی اس لڑائی میں شامل ہو جائیں"، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال امریکا کسی فوجی کارروائی میں ملوث نہیں ہے۔
ٹرمپ نے ایران اسرائیل تنازعے میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ممکنہ ثالثی کردار کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ اگر پیوٹن ثالثی کریں تو وہ اس کے لیے کھلے دل سے تیار ہیں۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جاری ہیں اور موجودہ کشیدہ صورتحال کے باعث ایران اب ممکنہ طور پر معاہدے کے لیے زیادہ آمادہ ہوگا۔
یاد رہے کہ ایران نے اتوار کو امریکا کے ساتھ مذاکرات کا چھٹا دور منسوخ کر دیا تھا، جو پہلے سے طے شدہ تھا۔
یہ پڑھیں:اسرائیلی وحشیانہ حملوں پر خاموشی؛ ایران نے امریکا کیساتھ جوہری مذاکرات منسوخ کردیئے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بیان میں کہا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جلد ہی امن قائم ہوگا کیونکہ متعدد غیراعلانیہ ملاقاتیں ہو رہی ہیں اور دونوں ممالک کو معاہدہ کرنا چاہیے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران اور اسرائیل کو معاہدہ کرنا چاہیے اور معاہدہ کریں گے اور ہمیں جلد ہی امن دیکھنے کو ملے گا۔
انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والی سفارتی پیش رفت کو مثال کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہا کہ اُس وقت انہوں نے دونوں ملکوں کو تجارت کی دلیل دے کر معاہدے پر آمادہ کیا اور دونوں رہنماؤں نے فوری فیصلہ کر کے کشیدگی کو ختم کیا۔
خطے کی حالیہ صورتحال میں ٹرمپ کے بیانات کو خاصی اہمیت دی جا رہی ہے، خصوصاً اس وقت جب اسرائیل اور ایران کے درمیان فضائی حملوں کا تبادلہ شدت اختیار کر چکا ہے اور عالمی برادری جنگ کے پھیلنے کے خدشات کا اظہار کر رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایران اور اسرائیل کے درمیان کہ ایران کہا کہ
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔