پیوٹن نے سید علی خامنہ ای کو امریکا سے مذاکرات تیز کرنے کا مشورہ دیا، اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
صہیونی میڈیا کے مطابق روسی صدر نے راہبر معظم کو امریکا سے مذاکرات تیز کرنے کا مشورہ دیا، روسی صدر نے امریکی ہم منصب سے گفتگو کے بعد راہبر معظم کو خبردار کیا کہ ایرانی حکومت خطرے میں ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ روز روسی صدر پیوٹن نے ایران کے کہنے پر امریکی صدر ٹرمپ سے رابطہ کیا۔ صہیونی میڈیا کے مطابق پیوٹن نے آیت اللہ سید علی حیسن خامنہ ای کو امریکا سے مذاکرات تیز کرنے کا مشورہ دیا، روسی صدر نے امریکی ہم منصب سے گفتگو کے بعد آیت اللہ سید علی حیسن خامنہ ای کو خبردار کیا کہ ایرانی حکومت خطرے میں ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی میڈیا نے بتایا کہ اسرائیلی آرمی چیف آف سٹاف نے بھی دعویٰ کیا کہ 2 اسرائیلی شہری ایران کیلئے جاسوسی کے الزام میں گرفتار ہیں اور ہم اپنی بقا کو لاحق خطرے کو ختم کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔