Jasarat News:
2026-07-24@07:54:23 GMT

کراچی پریس کلب پریکجہتی کیمپ برائے گلوبل مارچ ٹو غزہ

اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی ( اسٹاف رپورٹر) دنیا بھر سے آنے والے آزادی پسندوں کے کاروان برائے غزہ کے ساتھ یکجہتی کے لئے کراچی پریس کلب پر کیمپ لگایا گیا جس میں سیاسی ومذہبی جماعتوں کے قائدین سمیت سول سوسائٹی، سوشل ورکرز اور انسانی حقوق کے نمائندوں نے شرکت کی۔ کیمپ کا انعقاد فلسطین فائونڈیشن پاکستان اور وفاقی جامعہ اردو سمیت تھنک ٹینک کیپ کے مشترکہ تعاون سے کیا گیا تھا۔ یکجہتی کیمپ کا مقصد گلوبل مارچ ٹو غزہ کے شرکاء کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا تھا۔ واضح رہے کہ فریڈم فلوٹیلا کے بعد الجیریا سے چلنے والا زمینی کاروان برائے غزہ مختلف ممالک سے ہوتا ہوا مصر پہنچ چکا ہے جہاں سے غزہ کی طرف رفح کراسنگ جانا ہے تاہم مصر کی حکومت نے اس امدادی کاروان کو طاقت اور جبر کے ذریعہ روک دیا ہے اور آزادی پسند کارکنوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ گلوبل مارچ ٹو غزہ یکجہتی کیمپ کے شرکا سے جماعت اسلامی کے اسد اللہ بھٹو، فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے ڈاکٹر صابر ابو مریم، وفاقی اردو یونیورسٹی کے ڈاکٹر اصغر دشتی، ڈاکٹر سدرہ ،سابق رکن سندھ اسمبلی محفوظ یار خان ایڈووکیٹ، پاکستان مسلم لیگ نواز کے قاضی زاہد حسین، جمعیت علما پاکستان کے علامہ عقیل انجم قادری، پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسرار عباسی، پاکستان مسلم لیگ فنکشنل کے پیر خرم شاہ، جماعت اسلامی سندھ کے سابق امیر محمد حسین محنتی، مسیحی رہنما پاسٹر ایمانئویل، عوامی نیشنل پارٹی کے یونس بونیری، ہیومن رائٹس کونسل کے جمشید حسین، پی پی پی کونسلر چودھری محمد طارق، پاکستان عوامی تحریک کے نوید عالم، پیر معاذ نظامی سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ یکجہتی غزہ مارچ کیمپ کے شرکاء نے غزہ کے امدادی کاروان کے لیے راستے روکے جانے پر مصری حکومت کی شدید مذمت کی اور ا سکا ذمہ دار امریکا کو قرار دیا۔ یکجہتی کیمپ کے شرکاء نے گزشتہ دنوں ایران پر ہونے والے اسرائیلی دہشت گردانہ حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور ایران پر اسرائیلی جارحیت کو کھلی دہشت گردی قرار دیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ غزہ میں نسل کشی جاری ہے، امریکا اور اسرائیل غزہ کے لوگوں کو بھوک کے ذریعہ قتل کر رہے ہیں اور ساتھ ساتھ امداد کے نام پر گولیوں سے چھلنی کیا جا رہاہے۔ انہوں نے غزہ میں جاری جارحیت پر عالمی برداری کی خاموشی اور مسلم حکمرانوں کی بے حسی کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ مسلم دنیا کیحکمران غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کے ساتھ تعلقات ختم کریں۔مقررین نے کہاکہ پاکستان کے عوام ایران کے ساتھ ہیں، انہوںنے حکومت سے مطالبہ کیاکہ حکومت مسئلہ فلسطین مسیت ایران کے معاملہ پر بھرپور حمایت کرے اور عملی اقدامات بروئے کار لا ئے جائیں۔گلوبل مارچ ٹو غزہ یکجہتی کیمپ میں علامہ عبد الوحید یونس، قادر مسجد کے صدر مفتی عبد المجید، مفتی علی مرتضی سمیت روشن سومرو، ڈاکٹر افتخار طاہری، مجاہد چنا ، ڈاکٹر ثمرین، سلیم صالح بزدرا، واحد بلوچ ، گل محمد منگی، عطاء عمرانی، مخدوم ایوب قریشی، ڈاکٹر گوہر مہر سمیت دیگر بھی موجو دتھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: گلوبل مارچ ٹو غزہ یکجہتی کیمپ کے ساتھ غزہ کے

پڑھیں:

جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے

جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے

یہ نئے محصولات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال عائد کیے گئے عارضی عالمی ٹیرفس کی جگہ لیں گے، جن کی مدت جمعے کو ختم ہو رہی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق نئے ٹیرفس 24 جولائی جمعے کے دن سے نافذ العمل ہوں گے اور ان کی شرح 10 فیصد سے 12.5 فیصد تک ہو گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے کہا کہ جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی امریکہ میں درآمد پر تقریباً ایک صدی سے پابندی عائد ہے اور اس قانون پر سختی سے عمل درآمد کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکہ کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار کو اپنائیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے مزید کہا کہ جن ممالک کو نشانہ بنایا گیا ہے وہ امریکی تجارت کے بڑے حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ نے فروری میں سپریم کورٹ کی جانب سے متعدد ٹیرفس منسوخ کیے جانے کے بعد فوری طور پر نئی قانونی بنیادوں پر محصولات دوبارہ نافذ کرنے کی کوشش کی تھی۔ عدالت کے فیصلے نے صدر ٹرمپ کی من مانی بنیادوں پر بلند ٹیرفس عائد کرنے کی صلاحیت کو محدود کر دیا تھا۔

عدالتی فیصلے کے بعد صدر ٹرمپ نے ایک مختلف قانونی اختیار استعمال کرتے ہوئے درآمدات پر 10 فیصد عارضی ٹیرفس نافذ کیے تھے، تاہم ان کی مدت صرف 150 دن تھی، جو 24 جولائی کو ختم ہو رہی ہے۔

نئے تجویز کیے گئے محصولات انہی ٹیرفس کی جگہ لیں گے۔ کون کون سے ممالک متاثر

یہ اقدامات کئی ماہ تک جاری رہنے والی تحقیقات کے بعد مرتب کیے گئے ہیں اور ماہرین کے مطابق انہیں قانونی چیلنجز کا سامنا ہونے کی صورت میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، السلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا اور ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک کی مصنوعات پر 10 فیصد ٹیرفس عائد کیے جائیں گے۔

دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ کی مصنوعات پر یہ شرح 10 یا 12.5 فیصد ہو گی۔ اس کے علاوہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ٹیرفس نافذ کیے جائیں گے۔

نئے امریکی ٹیرفس پر مختلف ممالک کا شدید ردعمل

امریکہ کی جانب سے نئے درآمدی ٹیرفس نافذ کیے جانے کے بعد مختلف متاثرہ ممالک نے اس فیصلے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں غیر منصفانہ اور بلاجواز قرار دیا ہے۔

برازیل، جس کی امریکہ کو برآمدات پر نئے اقدامات کے تحت 12.5 فیصد ٹیرفس عائد کیے جائیں گے، نے امریکی فیصلے کو ’’مکمل طور پر من مانا‘‘ اور ’’بلاجواز‘‘ قرار دیا ہے۔

آسٹریلیا نے کہا ہے کہ نئے امریکی ٹیرفس ’’کسی بھی لحاظ سے قابل فہم نہیں‘‘ اور ملکی حکومت اس فیصلے پر شدید مایوس ہے۔ اب آسٹریلوی مصنوعات پر امریکی درآمدی محصولات 10 فیصد سے بڑھا کر 12.5 فیصد کر دیے جائیں گے۔

جاپان نے بھی اس امریکی اقدام پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ جاپانی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ ملک کی صنعتی اور تجارتی سرگرمیاں بین الاقوامی قوانین اور ضوابط کے مطابق انجام دی جاتی ہیں، اس لیے اس بنیاد پر اضافی ٹیرفس عائد کرنا مناسب نہیں۔

دباؤ برقرار رکھنے کی حکمت عملی

دریں اثنا واشنگٹن مزید 16 معیشتوں سے متعلق تحقیقات بھی کر رہا ہے، جن کے نتیجے میں مستقبل میں اضافی محصولات عائد کیے جا سکتے ہیں۔

تجارتی امور کی ماہر وکیل گریٹا پائش نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ بنیادی ٹیرفس نافذ کرنے کے ساتھ مزید محصولات کی دھمکی برقرار رکھنا امریکہ کو اپنے تجارتی شراکت داروں پر دباؤ قائم رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

ان کے مطابق اس حکمت عملی سے ایسے ممالک کو اپنے سابقہ تجارتی معاہدوں پر عمل درآمد کی ترغیب بھی ملتی ہے، جبکہ حکومت چاہتی ہے کہ عدالتوں میں ممکنہ چیلنجز کی صورت میں نئے ٹیرفس قانونی طور پر مضبوط ثابت ہوں۔

امریکی حکام کے مطابق وہ مصنوعات جو پہلے ہی مخصوص شعبہ جاتی ٹیرفس، جیسے اسٹیل اور ایلومینیم پر عائد محصولات، کے دائرے میں آتی ہیں، ان پر نئے ٹیرفس لاگو نہیں ہوں گے۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک