اسرائیلی حملہ بربریت ہے‘، صحافتی برادری ایرانی عوام کے ساتھ ہے’، کے یو جے
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
کراچی یونین آف جرنلسٹس (دستور) کی گورننگ باڈی کے اجلاس میں صیہونی ریاست اسرائیل کی جانب سے برادر اسلامی ملک ایران پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔ اجلاس میں ایران کے عوام، حکومت اور صحافتی برادری سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اقوام متحدہ اور او آئی سی کا فوری اجلاس بلانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔
اجلاس کی صدارت صدر نصراللہ چوہدری نے کی۔ انہوں نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت ایران کو اپنے دفاع کا مکمل اور قانونی حق حاصل ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کراچی کی صحافی برادری ایرانی عوام اور صحافی بھائیوں کے ساتھ بھرپور یکجہتی کے ساتھ کھڑی ہے۔
سیکریٹری کے یو جے ریحان چشتی نے میڈیا اداروں میں یونٹ چیفس کے تقرر اور رکنیت ڈیٹا کی تکمیل کے لیے اسکروٹنی کمیٹی کو ہدایات جاری کیں۔ اجلاس میں دیگر عہدیداران اور گورننگ باڈی کے اراکین نے بھی شرکت کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔