آئی جی سندھ سے کوئی اختلاف نہیں‘ وہ سرکاری ملازم ہیں‘ ضیاالحسن لنجار
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹھٹہ (صباح نیوز)وزیر داخلہ سندھ ضیاالحسن لنجار نے کہا ہے کہ آئی جی سندھ سے کوئی اختلاف نہیں ۔اختلاف برابری کی بنیاد پر ہوتا ہے ۔ آئی جی پولیس کی کمان سنبھالنے والے ملازم ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ٹھٹہ میں ماڈل تھانے کی افتتاحی تقریب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ان کا کہنا تھا کہ سندھ پولیس ڈاکوں، جرائم پیشہ افراد اور امن دشمنوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، سندھ پولیس اسلحے سے اچھی طرح لیس ہے اور مہارت کے لحاظ سے بہت بڑی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ پولیس میں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے، سندھ ماضی کی نسبت زیادہ پرامن ہے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر اوقاف ریاض حسین شیرازی، ایم این اے صادق علی میمن، ڈی آئی جی طارق دھاریجو، ڈپٹی کمشنر منور عباس سومرو اوردیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔