پنجاب حکومت کا 26-2025 کا ٹیکس فری بجٹ پیش، عوامی ریلیف اور ترقیاتی منصوبوں پر زور
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
پنجاب اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے دوران وزیر خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھارت کے غرور کو پاش پاش کر دیا، پوری قوم بھارتی جارحیت کے خلاف سرخرو ہوئی ہے، اور پاکستان کی عظیم فتح پر وزیر اعظم اور افواج پاکستان کو سلام پیش کرتا ہوں۔
بجٹ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا کہ گزشتہ مالی سال کی طرح یہ بجٹ بھی ٹیکس فری ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف صوبے کو غربت اور بیروزگاری سے پاک کرنے کے مشن پر ہیں۔ پنجاب میں نوجوانوں کے لیے ترقی کے راستے کھول دیے گئے ہیں اور طلبہ کو بلاتفریق لیپ ٹاپ فراہم کیے گئے ہیں۔
مزید پڑھیں: بجٹ 26-2025: نان فائلرز سمیت کن دیگر افراد کے گرد گھیرا تنگ ہونے جارہا ہے؟
اجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان نے بجٹ تقریر کے دوران شدید احتجاج اور شور شرابہ کیا، وزیراعلیٰ مریم نواز بھی ایوان میں موجود ہیں۔
مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے کہا کہ پنجاب میں دن رات ترقیاتی کام جاری ہیں اور حکومت عوام کی فلاح و بہبود کے لیے پرعزم ہے۔ عالمی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں ایران اور فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بجٹ اجلاس پنجاب اسمبلی ٹیکس فری بجٹ مجتبیٰ شجاع الرحمٰن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بجٹ اجلاس پنجاب اسمبلی ٹیکس فری بجٹ مجتبی شجاع الرحم ن
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔