کانگریس نے غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کرنے والے اقوام متحدہ کے مسودہ قرارداد پر ووٹنگ سے بھارتی حکومت کی دوری کو اخلاقاً بزدلانہ عمل قرار دیا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ میں غزہ جنگ بندی قرارداد کو لیکر ووٹنگ معاملے میں بھارت کے رخ پر نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے سربراہ نے اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ غزہ جنگ بندی قرارداد پر ووٹنگ سے دور رہنے کا ہندوستان کا فیصلہ اس کی غیر ملکی پالیسی کے مطابق نہیں ہے اور اس سے عالمی سطح پر ملک کے بارے میں بھرم کی حالت پیدا ہوگئی ہے۔ دراصل ہندوستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں غزہ میں فوری، بلا شرط اور مستقل جنگ بندی کے مطالبہ والی تجویز پر ووٹنگ سے خود کو الگ رکھا ہے۔ ممبئی میں پارٹی کارکنوں کی ایک میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر دفاع شرد پوار نے کہا کہ ہندوستان نے ہمیشہ انسانیت کی حفاظت کے لئے اپنا کردار ادا کیا ہے اور بے قصور لوگوں کے قتل کی مخالفت کی ہے۔

اس درمیان شرد پوار نے اپنی پارٹی کے تعلق سے کہا کہ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کا کیڈر مضبوط ہے اور سیاسی ناکامیوں کے باوجود جدوجہد کرنے کے لئے پُرعزم ہے۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں سے مقامی بلدیہ کے آئندہ انتخابات کے لئے پوری طرح تیار رہنے کی اپیل کی۔ شرد پوار نے کہا کہ پارٹی کے مقامی رہنما طے کریں گے کہ انتخاب تنہا لڑیں گے یا معاونین (شیو سینا-یو بی ٹی اور کانگریس) کے ساتھ۔ شرد پوار نے کہا کہ شہر اور ضلعی اکائیاں مشترکہ طور سے حکمت عملی پر تبادلہ خیال کریں گی اور انتخابات کے لئے روڈ میپ کو حتمی شکل دیں گی۔ انہوں نے کہا کہ مقامی بلدیاتی انتخابات کارکنوں کو مضبوط بناتے ہیں اور نئی قیادت تیار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ممبئی میونسپل کارپوریشن کے انتخاب قومی انتخاب کی طرح ہی ہوں گے کیونکہ یہ شہر ملک کو راستہ دکھاتا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے کانگریس نے غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کرنے والے اقوام متحدہ کے مسودہ قرارداد پر ووٹنگ سے بھارتی حکومت کی دوری کو اخلاقاً بزدلانہ عمل قرار دیا تھا۔ کانگریس نے کہا تھا کہ جنگ بندی کے لئے ووٹ دینے سے ڈرنے والی حکومت بھارت یا دنیا کو اخلاقی سمت یا قیادت دینے کے لائق نہیں ہے۔ ساتھ ہی کانگریس نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ گزشتہ 6 ماہ میں ایسی کیا تبدیلی آئی، جس کی وجہ سے ہندوستان نے جنگ بندی کی حمایت کرنا بند کر دیا فلسطین پر سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے اصول پسندانہ رخ کو بھی چھوڑ دیا۔ اس معاملے میں کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے اپنے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ شرمناک اور مایوس کن ہے کہ ہماری حکومت نے غزہ میں شہریوں کی حفاظت اور قانونی و اخلاقی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لئے اقوام متحدہ کے قرارداد پر غور نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اقوام متحدہ شرد پوار نے پر ووٹنگ سے کانگریس نے نے کہا کہ انہوں نے کے لئے

پڑھیں:

آزاد کشمیر انتخابات: لاہور ڈویژن کے کن 2 حلقوں میں پولنگ ہوگی؟

آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات 27 جولائی کو ہوں گے۔ ان انتخابات میں آزاد کشمیر کے 33 علاقائی حلقوں کے علاوہ پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں پر بھی ووٹنگ ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر انتخابات: ن لیگ کی مہم جاری، نواز شریف کے دورہ میرپور کا اعلان

لاہور ڈویژن میں مہاجرین کے لیے قائم 2 انتخابی حلقوں میں پولنگ ہوگی جہاں ہزاروں رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔

لاہور ڈویژن میں حلقہ ایل اے 34 جموں 1 اور حلقہ ایل اے 41 وادی کشمیر 2 کے لیے پولنگ ہوگی۔ ان حلقوں میں ضلع لاہور، شیخوپورہ، قصور اور ننکانہ صاحب میں مقیم اہل کشمیری مہاجرین ووٹ ڈالنے کے مجاز ہیں۔

حلقہ ایل اے 34 جموں ون جموں سے تعلق رکھنے والے کشمیری مہاجرین کے لیے مخصوص ہے جبکہ ایل اے 41 وادی کشمیر ٹو وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کے لیے مختص ہے۔

کتنے ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے؟

پاکستان بھر میں قائم مہاجرین کی 12 نشستوں پر مجموعی طور پر 4 لاکھ 38 ہزار 596 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔

وادی کشمیر کے حلقوں میں ووٹرز کی تعداد نسبتاً کم ہے جبکہ جموں کے حلقوں میں ووٹرز زیادہ ہیں۔ گزشتہ انتخابات کے مطابق وادی کشمیر کے متعلقہ حلقے میں تقریباً 5 ہزار ووٹرز رجسٹرڈ تھے اور نئی ووٹر فہرستوں کے بعد بھی اس تعداد میں نمایاں اضافہ نہیں ہوا۔

مزید پڑھیے: آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی نے 35 حلقوں میں امیدواروں کو ٹکٹ جاری کردیے

الیکشن کمیشن نے لاہور ڈویژن کے دونوں حلقوں کے لیے مختلف مقامات پر پولنگ اسٹیشن قائم کیے ہیں تاکہ ووٹرز آسانی سے اپنا ووٹ کاسٹ کر سکیں۔

رپورٹ کے مطابق ایل اے 34 کا دائرہ زیادہ تر لاہور کے اندرون علاقوں پر مشتمل ہے جبکہ ایل اے 41 میں گلبرگ سمیت لاہور کے بعض اندرون شہر کے علاقے شامل ہیں۔

کن امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا؟

حلقہ ایل اے 41 وادی کشمیر 2 میں مسلم لیگ (ن) کے محمد امیر شاہ، پاکستان پیپلز پارٹی کے غلام عباس میر اور استحکام پاکستان پارٹی کے سعید احمد ڈار اہم امیدوار ہیں۔

دوسری جانب ایل اے 34 جموں ون میں مسلم لیگ (ن) کے ناصر احمد ڈار، پاکستان پیپلز پارٹی کے کرنل (ر) قدیر چوہان اور استحکام پاکستان پارٹی کے بلال بٹ مدمقابل ہیں۔

مزید پڑھیں : عام انتخابات: آزاد کشمیر میں سیاسی درجہ حرارت تیز، نواز شریف اور بلاول بھٹو بھی میدان سجانے کو تیار

ان حلقوں میں متعدد آزاد امیدوار بھی انتخابی میدان میں موجود ہیں۔

کس جماعت کے درمیان اصل مقابلہ؟

سیاسی مبصرین کے مطابق آزاد کشمیر کے موجودہ انتخابات میں اصل مقابلہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان دکھائی دے رہا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے، حالانکہ 2021 کے انتخابات کے بعد آزاد کشمیر میں حکومت تحریک انصاف ہی کی قائم ہوئی تھی۔

انتخابی مہم عروج پر

آزاد کشمیر کے انتخابات کے لیے انتخابی مہم اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم کی قیادت بلاول بھٹو زرداری کر رہے ہیں، جبکہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے نواز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، سینیئر وزیر مریم اورنگزیب اور خواجہ سعد رفیق مختلف جلسوں اور انتخابی سرگرمیوں میں شریک ہوں گے۔

ادھر استحکام پاکستان پارٹی کے امیدوار بھی ڈور ٹو ڈور انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: آزاد کشمیر: پی ٹی آئی نے انتخابات کا بائیکاٹ کیوں کیا، 27 جولائی کو اس کا فائدہ کس پارٹی کو ہوگا؟

اب تمام نظریں 27 جولائی پر مرکوز ہیں جب ووٹرز اپنے فیصلے سے یہ طے کریں گے کہ ان حلقوں میں کامیابی کس جماعت کے حصے میں آتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آزاد کشمیر انتخابات کشمیری مہاجرین کی 12نشستیں لاہور ڈویژن

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر انتخابات: لاہور ڈویژن کے کن 2 حلقوں میں پولنگ ہوگی؟
  • ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا