نریندر مودی کا ہر صرف ایک وعدہ انتخابی جملہ ثابت ہوا، کانگریس
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
کانگریس کا کہنا ہے کہ سامنے آئے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بے روزگاری نوجوانوں کیلئے سب سے بڑا چیلنج بن گیا ہے، بھارت کے بے روزگاروں میں 83 فیصد نوجوان ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ بے روزگاری کے محاذ پر آج ایک بُری خبر یہ سامنے آئی کہ بھارت میں مئی ماہ کے دوران شرح بے روزگاری میں اضافہ درج کیا گیا ہے۔ مودی حکومت کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق مئی 2025ء میں ہندوستان کی بے روزگاری شرح بڑھ کر 5.
کانگریس کا کہنا ہے کہ سامنے آئے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بے روزگاری نوجوانوں کے لئے سب سے بڑا چیلنج بن گیا ہے، ملک کے بے روزگاروں میں 83 فیصد نوجوان ہیں۔ کانگریس نے کہا کہ آج ملک میں 45 سال میں سب سے زیادہ بے روزگاری ہے۔ ہر گھنٹے 2 نوجوان بے روزگاری سے تنگ آ کر خودکشی کرتے ہیں۔ ان حقائق کو پیش کرنے کے بعد کانگریس نے لکھا ہے کہ آج نوجوانوں کے پاس نہ ملازمت ہے، نہ روزگار کے وسائل، نوجوان معاشی تنگی سے نبرد آزما ہیں اور قرض لے کر زندگی گزارنے کے لئے مجبور ہیں۔
موجودہ حالات کے لئے کانگریس نے پوری طرح سے وزیراعظم نریندر مودی کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ نریندر مودی نے گزشتہ 11 سالوں میں دن رات صرف ارب پتیوں کے لئے کام کیا اور نوجوانوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا۔ نریندر مودی پر حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے کانگریس نے سوشل میڈیا پوسٹ میں یہ بھی لکھا کہ نریندر مودی نے وعدے تو ہوا ہوائی کئے، لیکن ان کا ہر ایک وعدہ انتخابی جملہ ثابت ہوا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بے روزگاری کانگریس نے کے لئے
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔