ایران کا اسرائیل پر سائبر حملہ، اسرائیلی شہریوں کو موبائل پر کیا پیغامات موصول ہوئے؟
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایران نے اسرائیل پر ایک سائبر حملہ کیا ہے جس میں موبائل فونز کو نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق، ایران کے سائبر حملے کے نتیجے میں اسرائیلی شہریوں کو موبائل فونز پر پیغامات موصول ہوئے، جن میں انہیں پناہ گاہوں میں جانے اور ایندھن ذخیرہ کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں۔
اسرائیلی حکام نے شہریوں کو مطلع کیا کہ یہ ایران کا سائبر حملہ ہے اور عوام کو اس پر دھیان نہیں دینا چاہیے۔
اس کے علاوہ، اسرائیلی ٹی وی چینل کا لائیو پروگرام بھی مبینہ طور پر ہیک کر لیا گیا، جس پر اینکرز حیرانی کا شکار ہو گئے۔
واضح رہے کہ پیر اور منگل کی درمیانی شب ایران نے اسرائیل پر ایک اور بڑا حملہ کیا تھا، جس میں تل ابیب اور حیفہ پر میزائل اور ڈرونز داغے گئے۔
ایرانی حملے کے نتیجے میں حیفہ ریفائنری کی پیداوار مکمل طور پر معطل ہو گئی، اور تین ملازمین بھی ہلاک ہو گئے۔
ایرانی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل پر حملے صبح تک جاری رکھیں گے۔
پیر کو ایران نے اسرائیل پر درجنوں میزائلوں سے حملہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں کم از کم 8 اسرائیلی ہلاک اور 92 زخمی ہو گئے۔
اب تک جمعہ سے ایران کے میزائل حملوں میں 24 اسرائیلی ہلاک اور 600 زخمی ہو چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسرائیل پر
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔