محرم الحرام کے دوران کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں ‘ایاز حمید بلوچ
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی ( اسٹاف رپورٹر)محرم الحرام کی آمد کے پیش نظر نیو کراچی ٹاؤن آفس میں اہم اجلاس کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت میونسپل کمشنر نیو کراچی ٹاؤن ایاز حمید اللہ بلوچ اور وائس چیئرمین شعیب بن ظہیر نے مشترکہ طور پر کی۔ اس موقع پر مونسپل کمشنر ایاز حمید اللہ بلوچ نے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ محرم الحرام کے دوران کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جلوسوں کے تمام روٹس کی قبل از وقت صفائی اور سیوریج لائنز کی درستگی کو یقینی بنایا جائے، تاکہ عزاداران حسینؓ کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔میونسپل کمشنرایاز حمید اللہ بلوچ نے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے افسران کو ہدایت دی کہ امام بارگاہوں اور جلوس کے راستوں پر کچرا اٹھانے کے لیے خصوصی ٹیمیں تعینات کی جائیں جو صفائی کے عمل کو بروقت اور بلا تعطل جاری رکھیں۔انہوں نے کہا کہ اسلامی سال کا پہلا مہینہ مسلمانوں کے لئے اہمیت کا حامل ہے اور نیو کراچی ٹاؤن کے تمام علاقوں میں ماتمی جلوسوں اور مجالس کا اہتمام کیا جاتا ہے عوامی خدمت فراہم کرنے والے ادارے ماہ مقدس میں عوام کوبھر پور اپنی خدمات فراہم کریں تاکہ نیو کراچی ٹاؤن کی عوام اپنے مذہبی فرائض کی ادائیگی آسانی سے کرسکے۔اس موقع پر وائس چیئرمین شعیب بن ظہیر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ نیو کراچی ٹاؤن میں قائم مساجد و امام بارگاہوں اور مجالس کے مقامات پر پانی کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نیو کراچی ٹاو ن
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔