ایران جوہری بم بنانے میں سرگرم تھا اور نہ فوری طور پر بم بنانے کے قابل تھا.امریکی انٹیلی جنس
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
واشنگٹن(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔17 جون ۔2025 )امریکی انٹیلی جنس نے اپنی تازہ ترین تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ ایران جوہری بم بنانے میں سرگرم تھا اور نہ فوری طور پر بم بنانے کے قابل تھا امریکی نشریاتی ادارے ”سی این این“ کے مطابق اگرچہ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے سے صرف چند ماہ کی دوری پر تھا لیکن امریکی انٹیلیجنس اداروں کے تازہ ترین جائزے کے مطابق ایران نہ تو اس وقت جوہری بم بنانے کی سرگرم کوشش کر رہا تھا اور نہ ہی وہ اس قابل تھا کہ وہ فوری طور پر ایسا ہتھیار تیار کر سکے.
(جاری ہے)
رپورٹ میں 4 ایسے افراد کے حوالے سے بتایا گیا ہے جو امریکی خفیہ جائزوں سے واقف ہیں ان کا کہنا ہے کہ نہ صرف یہ کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی سرگرمیوں میں شامل نہیں تھا بلکہ وہ اس قابل ہونے سے 3 سال تک دور تھا کہ وہ ایسا ہتھیار تیار کر سکے اور اسے کسی ہدف تک پہنچا سکے تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ، جو مشرق وسطیٰ میں امریکی عسکری سرگرمیوں کی نگرانی کرتا ہے نے ایک نسبتاً زیادہ ہنگامی نوعیت کی تشخیص دی تھی. رپورٹ کے مطابق سینٹرل کمانڈ کا خیال تھا کہ اگر ایران نے اچانک فیصلہ کیا تو وہ جلدی سے جوہری ہتھیار تیار کر سکتا ہے اقوام متحدہ کے جوہری نگراں ادارے (آئی اے ای اے) کی رپورٹس کے مطابق ایران کے پاس جوہری ہتھیار کے لیے درکار افزودہ یورینیم کی مطلوبہ مقدار موجود ہے لیکن اس نے ابھی تک اس یورینیم کو ہتھیار کی شکل دینے کی سمت کوئی واضح قدم نہیں اٹھایا” فاکس نیوز“ کو دیے گئے انٹرویو میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے امریکی اور اسرائیلی انٹیلیجنس کے مختلف اندازوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمیں جو انٹیلیجنس ملی اور جو ہم نے امریکا کے ساتھ شیئر کی، وہ بالکل واضح تھی کہ ایران خفیہ طور پر یورینیم کو ہتھیار بنانے کے لیے تیار کر رہا تھا وہ بہت تیزی سے پیش قدمی کر رہے تھے. ایک امریکی اہلکار نے سی این این کو بتایا کہ اگرچہ اسرائیل نے ایران کے ایٹمی پروگرام پر کاری ضرب لگانے کی کوشش کی ہے لیکن اس کارروائی نے ایران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے ممکنہ ٹائم لائن کو شاید صرف چند ماہ پیچھے دھکیلا ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے گہرائی میں واقع”فرود“جوہری مرکز پر فیصلہ کن حملہ کرنے کے لیے اسرائیل کو امریکی فوجی مدد درکار ہوگی کیونکہ اسرائیلی حملے اکیلے اس حد تک نقصان نہیں پہنچا سکتے جس سے ایران کا پروگرام طویل مدتی طور پر مفلوج ہو جائے.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے جوہری ہتھیار ایران جوہری کے مطابق کہ ایران ایران کے تیار کر تھا کہ
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔