ایرانی سپریم لیڈر نے جنگ کے اختیارات پاسداران انقلاب گارڈ کو دیدیئے
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
تہران (نیوز ڈیسک) سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے جنگ سے متعلق اختیارات پاسداران انقلاب گارڈز کی شوریٰ کو منتقل کردیئے۔
ایرانی میڈیا کا دعویٰ کیا کہ پاسداران انقلاب گارڈز کو جنگ سے متعلق امور پر مکمل اختیار مل گیا، پاسداران انقلاب نے اسرائیل پر زیادہ طاقتور میزائل حملے کرنے کا اعلان کردیا، ایران کے اسرائیل پر تباہ کن جوابی حملے جاری رہے۔
ایران نے اسرائیل پر ایک اور بڑا ہائبرڈ حملہ کیا، بیلسٹک میزائلوں اور جدید ترین ڈرونز کا استعمال کیا، ایران نے تل ابیب اور ہرزلیہ میں بھی میزائل داغ دیئے، دونوں شہر سائرن سے گونج اٹھے، ہرزلیہ میں میزائل گرنے سے متعدد بسوں کو آگ لگ گئی۔
واضح رہے تل ابیب اور یروشلم پر میزائل حملوں میں مزید 10 اسرائیلی زخمی ہوگئے، ایران کا موساد ہیڈ کوارٹر ز اور ملٹری انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ پر حملہ کیا جس کے باعث آگ بھڑک اٹھی، اسرائیل میں سٹریٹجک اہداف ڈرون حملوں سے تباہ کئے۔
میزائل حملے کے بعد حیفہ ریفائنری کی پیداوار مکمل رک گئی تھی جس کے باعث 3 ملازم ہلاک ہوگئے جبکہ اسرائیل میں تمام آئل ریفائنریز اور ذیلی کمپنیاں بند ہوگئیں، ایرانی حملوں میں 27 اسرائیلی ہلاک جبکہ 600 زخمی ہو چکے ہیں۔
ایران نے اسرائیل پر سائبر حملہ کیا، موبائل فونز اور دیگر ڈیوائسز ہیک کر لیں، اسرائیل نے اپنے تمام ایئرپورٹس اور فضائی حدود بند رکھنے کا اعلان کردیا، ایران نے میزائل ذخائر تباہ کرنے کے اسرائیلی دعوے بے بنیاد قرار دیدیئے۔
ایرانی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کیخلاف اب تک اپنے جدید میزائل استعمال ہی نہیں کئے، ہم طویل جنگ کیلئے پوری طرح تیار ہیں۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پاسداران انقلاب اسرائیل پر ایران نے
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔