اسرائیل اور امریکہ کا اگلا ٹارگٹ پاکستان ہے، حافظ نعیم
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
لاہور:
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کا اگلا ٹارگٹ پاکستان ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے منصورہ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ سب سے منافق قوت کے طور پر سامنے آیا ہے، امریکہ ایک طرف جنگ بندی کی بات کر رہا دوسری طرف اسرائیل کو فوجی امداد بھی فراہم کررہا ہے، ایران پر ایٹمی ہتھیاروں کا الزام لگایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ نسل کشی اور ناحق قتل عام کرتا ہے، تمام مسلم ممالک ایران کے ساتھ ہیں، کچھ ممالک جو اسرائیل کی پشت پناہی کر رہے ہیں وہ یاد رکھیں ان کا خواب گریٹر اسرائیل ہے، اسرائیل ایران میں مرضی کی رجیم چینچ کرکے اپنی سرحدیں بڑھانا چاہتا ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور امریکہ کا اگلا ٹارگٹ پاکستان ہے جس کا اظہار وہ کبھی کرتے بھی ہیں، پاکستان کا ایٹمی پروگرام اسرائیل کو کھٹکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امن کے نام پر ووٹ لے کر آنے والا ٹرمپ امن تباہ کر رہا ہے، ٹرمپ کی ثالثی مسئلہ کشمیر کو حل نہیں کرسکتی۔ ایران کی حمایت کرنا مسلم ممالک کی ذمہ داری ہے ورنہ کوئی نہیں بچے گا۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت نے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت کا بہانہ بناکر تیل مہنگا کردیا، پیڑول کی قیمت سے لیوی ختم کریں قیمت چالیس فیصد کم ہو جائے گی، بجٹ میں عوام پر بے تحاشا ٹیکس لگا دیا گیا ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان حافظ نعیم نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔