data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد (آن لائن،اے پی پی) وزیر اعظم شہبا ز شریف نے کہا ہے کہ اسرائیل نے ہمارے برادر ملک ایران کے خلاف کھلی جارحیت کی۔ پاکستان اس کی شدید مذمت کرتا ہے ، مشرق و سطی صورتحال تشویشناک ہے ۔ عالمی برادری جنگ بندی کے لیے فوری کردار ادا کرے ۔ سخت محنت کے بعد معیشت استحکام کی راہ پر گامزن ہے ۔ ملک سے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پر عزم ہیں ۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اسرائیل ایران کشیدگی پر گہری تشو یش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے فلسطین کے بعد ایران کے خلاف بھی کھلی جارحیت کا مظاہرہ کیا ہے جو انتہائی قابل مذمت ہے ۔ عالمی برداری ایران، اسرائیل جنگ بندی کیلیے فوری کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے پاکستان کے برادر ملک کے خلاف کھلی جارحیت کی ہے، اس جارحیت کے نتیجے میں سینکڑوں لوگ شہید ہوگئے ہیں، جب کہ سینکڑوں ابھی بھی زخمی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے فلسطین میں بھی ظلم کا بازار گرم کر رکھا ہے ۔ عالمی برادری کا ضمیر کب جاگے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی اقدامات مشر ق وسطی اور خطے کے امن کیلیے شدید خطرہ ہیں ۔ اس سلسلے میں ترکیہ کے صدر سے بھی بات ہوئی ہے ۔ انہوں نے بھی ایران کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے ۔ انہوں نے کہا یہ کسان دوست بجٹ ہے ، زرعی سیکٹر پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگے گا۔ آئی ایم ایف کے مطالبے کے باوجود زراعت اور فرٹیلائزر پر ٹیکس نہ لگانے کا فیصلہ کیا ۔ انہوں نے کہا زرعی شعبہ پہلے ہی دباؤ کا شکار، مزید بوجھ نہیں ڈال سکتے۔ چھ سے بارہ لاکھ روپے آمدن والوں پر صرف ایک فیصد انکم ٹیکس عائد ہوگا۔ گزشتہ سال پانچ فیصد ٹیکس تھا، اب صرف ایک فیصد لگے گا۔ انہوں نے کہا سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے ۔ انہوں نے کہا ملک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عظیم کامیابی حاصل کر چکا ہے۔ حالیہ پاک بھرت کشیدگی میں بھی پاک فوج کا کردار شاندار رہا ۔ افواجِ پاکستان کی قربانیوں کو بجٹ میں خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے ۔ پاک فوج کی ضروریات کیلیے دفاعی بجٹ میں اضافہ کیا گیا، پی ایس ڈی پی کا حجم 1000 ارب روپے تک بڑھا دیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ ملک سے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پر عزم ہیں ۔ اس کے لیے سیکورٹی اداروں کی ضروریات کو پورا کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا بنیادی ڈھانچے، صحت، تعلیم، توانائی منصوبوں کو ترجیح دی گئی ہے ۔علاوہ ازیںوزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کیش لیس اکانومی اور معیشت کی ڈیجیٹائیزیشن کیلیے کمیٹی قائم کر دی، وزیر اعظم کی صدارت میں قائم کمیٹی اس حوالے سے اقدامات کا ہفتہ وار جائزہ لے گی۔ بدھ کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت غیر رسمی معیشت کے خاتمے، شفافیت کے فروغ اور کیش لیس و ڈیجیٹل اکانومی کے حوالے سے اقدامات پر جائزہ اجلاس وزیر اعظم ہائوس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس کو کیش لیس اکانومی و معیشت کی ڈیجیٹائیزیشن پر پیش رفت کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں و رقوم کی منتقلی کیلیے تاجروں کو ہدایات دی جا چکی ہیں اور عوامی سطح پر اس کے فروغ کیلیے اقدامات تیزی سے جاری ہیں۔ اجلاس کو وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور وزارت خزانہ کے اس حوالے سے اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔ وزیر اعظم نے کیش لیس اکانومی کے فروغ اور ڈیجیٹائیزیشن کو تیز کرنے کیلیے اعلی سطح کمیٹی قائم کر دی جس کی صدارت وزیر اعظم خود کریں گے۔ وزیراعظم کی صدارت میں کمیٹی ہفتہ وار اجلاس میں معیشت کی ڈیجیٹائیزیشن اور کیش لیس اکانومی کے فروغ کیلیے اٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لیگی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ معیشت کی ڈیجیٹائیزیشن حکومت کی اصلاحات کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، وفاقی بجٹ میں کیش لیس اکانومی کے فروغ کیلیے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: معیشت کی ڈیجیٹائیزیشن کیش لیس اکانومی انہوں نے کہا کہ کہا کہ اسرائیل کہ اسرائیل نے اکانومی کے حوالے سے کے فروغ کے خلاف کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم