حج 2025کیسا رہا؟ عازمین کے تجربات جاننے کے لیے ای سروے شروع
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
سعودی وزارتِ حج نے 2025ء کے حج کی بابت عازمین کی رائے جاننے کی خاطر ای سروے کا آغاز کر دیا
سعودی عرب کی وزارتِ حج و عمرہ نے حج 1446ھ (2025ء) کے لیے عازمینِ حج کے تجربات اور اطمینان کا جائزہ لینے کی غرض سے ایک الیکٹرانک سروے کا آغاز کر دیا ہے۔ سعودی میڈیا کے مطابق یہ اقدام خدمات کے معیار کو بہتر بنانے اور حجاج کرام کی ضروریات کو براہ راست سمجھنے کے لیے کیا گیا ہے۔
وزارت کے مطابق، یہ سروے دنیا کی 9 زبانوں عربی، انگریزی، فارسی، ہندی، ہسپانوی، فرانسیسی، ترکی، چینی اور مالے میں جاری کیا گیا ہے تاکہ دنیا بھر سے آنے والے عازمین اپنی زبان میں اپنے تاثرات اور تجاویز کا اظہار کر سکیں۔
ذرائع کے مطابق اس سروے کے ذریعے وزارتِ حج عازمین کے انفرادی و اجتماعی تجربات کو جانچ کر حج خدمات میں بہتری لانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف موجودہ حج سیزن کے مسائل کا ادراک ہوگا بلکہ مستقبل کے لیے پالیسی سازی میں بھی مدد ملے گی۔
As we strive to ensure excellence at every stage of your journey, we encourage you to take part in the Hajj Satisfaction Survey for the departure phase of the 1446H / 2025 season.
You may submit your feedback — in various languages — through this link:https://t.co/ff07rAFnoW… pic.twitter.com/pbA7ZcM83m
— Ministry of Hajj and Umrah (@MoHU_En) June 17, 2025
سعودی وزارت کا کہنا ہے کہ یہ سروے وزارت کے اس عزم کی غمازی کرتا ہے جس کے تحت عازمینِ حج کی سہولت کو مرکزی حیثیت دی جا رہی ہے اور ڈیجیٹل ذرائع سے خدمات کو مزید مؤثر بنانے کی کوشش جاری ہے۔
یہ سروے سعودی عرب کے اس وسیع تر وژن کا حصہ ہے جس کے تحت حج کو ایک جدید، محفوظ اور باکفایت تجربہ بنایا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ای سروے حج 2025 عازمین حج
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔