کھلاڑیوں کے الاؤنسز کا معاملہ؛ ہاکی فیڈیشن کا موقف سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) نے ڈیلی الاؤنس کے معاملے پر کھیل سے توجہ اُٹھانے کی کوشش قرار دیدیا۔
کوالالمپور میں ٹیم کی حوصلہ افزائی کیلئے موجود پی ایچ ایف صدر طارق بگٹی نے ایکسپریس نیوز سے خصوصی بات کرتے ہوئے کہا کہ ڈیلی الاؤنس ایشو سے زیادہ اہم فرانس کے خلاف سیمی فائنل میں بہتر کھیل پیش کرکے فائنل میں جگہ بنانا ہے۔
پی ایچ ایف صدر کا کہنا تھا کہ ہماری خواہش ہے کہ پاکستان یہ نیشنز کپ جیت کر پرو لیگ کیلئے کوالیفائی کرے، فنڈز کی کمی اور محدود میچز سمیت بہت سے ایشوز کا سامنا ہے تاہم اسکے باوجود لڑکے اور مینجمنٹ بہت محنت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری عالمی درجہ بندی میں 2 درجے بہتری آئی ہے، جب ذمہ داریاں ملیں تو اس وقت پاکستان کی رینکینگ میں 18 ویں پوزیشن تھی، اب ہم 13ویں پوزیشن پر آگئے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان ہاکی میں بہتری آرہی ہے۔
طارق بگٹی نے کہا کہ ہمیں ڈیلی الاؤنس سمیت لڑکوں کی مشکلات کا اندازہ ہے، حکومت کی طرف سے جتنی سپورٹ مل رہی ہے، وہ سب کے سامنے ہے، اس سپورٹ کو مزید بہتر کرنا ہوگا، ہماری ضروریات کے مطابق فنڈز ملنا شروع ہوجائیں تو پھر معاملات مزید آسان ہوجائیں گے۔
صدر پی ایچ ایف نے مزید کہا کہ ڈیلی الاؤنس کبھی ایڈوانس نہیں دیا جاتا، ایونٹ مکمل ہونے اور فنڈز کی دستیابی پر ہی لڑکوں کے واجبات ادا کیے جاتے ہیں، بطور صدر محدود وسائل کے باوجود ہر وہ کام کرنے کی کوشش ہے جس سے پاکستان کا ہاکی میں مستقبل مزید روشن ہو۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔