بجلی صارفین پر 10فیصد ڈیٹ سروس چارج کی حد ختم کرنے کی تجویز مسترد
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
بجلی صارفین پر 10فیصد ڈیٹ سروس چارج کی حد ختم کرنے کی تجویز مسترد WhatsAppFacebookTwitter 0 19 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس ) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے بجلی صارفین پر 10فیصد ڈیٹ سروس چارج کی حد ختم کرنے کی تجویز مسترد کردی۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس چیئرمین سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت ہوا جس میں پاور ڈویژن حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دی۔
پاور ڈویژن حکام نے بتایا کہ اس وقت بجلی بلوں پر3 روپے23 پیسے فی یونٹ ڈیٹ سروس چارج لگا ہوا ہے، آئی ایم ایف کی شرط ہے کہ اس حد کو ختم کیا جائے، اگر پاور سیکٹر کو مالی ضروریات ہوں تو اس سرچارج کو بڑھایا جاسکے۔ اس موقع پر سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ حکومت صارفین پر بوجھ بڑھا رہی ہے، اس تجویز کی منظوری نہیں دے سکتے، ابھی بینکوں سے 1200 ارب روپے کا قرض لیا گیا، حکومت اس قرض کی فنانسنگ کہاں سے کررہی ہے؟ ۔سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ پاور حکام اس وقت صارفین سے 3 روپے 23 پیسے وصول ہورہے ہیں لیکن سرچارج حد ختم ہونے کے بعد یہ دگنا ہوجائے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسرائیل کی وجہ سے مشرق وسطیٰ میں حالات کشیدہ ہو گئے ہیں، چینی وزیر خارجہ پاکستان نے ہمیشہ امن کو جنگ پر فوقیت دی ہے،ترجمان پاک فوج ججز تبادلے کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار نہیں دے رہے، اکثریتی فیصلہ ، سرفراز ڈوگر قائمقام چیف جسٹس برقرار ،تفصیلات سب نیوز پر ملک بھر میں پری مون سون بارشیں کب شروع ہورہی ہیں؟ شہری تیار رہیں! علی امین گنڈاپور کیخلاف آڈیو لیکس کیس میں فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ مقرر پاکستان کی نویں چین -جنوبی ایشیا ایکسپو میں شرکت سپریم کورٹ کے ججز بغیر اجازت بیرون ملک نہیں جا سکیں گے :چیف جسٹس چھٹی دینے اور ختم کرنے کے مجاز ہونگے ،نوٹیفکیشن سب...
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔