Jang News:
2026-06-02@22:45:34 GMT

ایران اسرائیل جنگ کے منفی اثرات پاکستان پر بھی پڑنا شروع

اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT

ایران اسرائیل جنگ کے منفی اثرات پاکستان پر بھی پڑنا شروع

—فائل فوٹو

ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے منفی اثرات پاکستان پر بھی پڑنا شروع ہو گئے ہیں۔

بلوچستان میں گوادر سے تفتان تک ایسے کئی علاقے ہیں جہاں بجلی اور پیٹرول سے لے کر خوردنی اشیاء ایران سے آتی ہیں، جنگی صورتِ حال کے باعث سرحدیں بند ہیں جس سے ان چیزوں کی قلت اور مہنگائی شروع ہو گئی ہے۔

پاکستان اور ایران کے درمیان 900 کلومیٹر طویل بارڈر تفتان اور گوادر سے کچھ دور گبدرمدان راہداری سے ملتی ہے جو اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کے باعث بند ہوگئی ہے، اس بندش سے بلوچستان کے مختلف اضلاع متاثر ہونے لگے ہیں۔

تفتان بارڈر کراچی سے ہزار کلومیٹر جبکہ گبدرمدان کا فاصلہ 700 کلو میٹر ہے، بارڈر کے قریبی علاقے خصوصاً گوادر، پنجگور، مند وغیرہ میں روزمرہ ضرورت کا سامان جس میں پیٹرول، کھانے کا تیل، گھی، مسالے اور کنفیکشنری آئٹم بھی ایران ہی سے آتے ہیں۔

ایرانی پیٹرول سے ناصرف ٹرانسپورٹر اور عام شہری فائدہ اُٹھاتے ہیں بلکہ یہی پیٹرول ماہی گیر اپنی کشتیوں اور بوٹس میں بھی استعمال کرتے ہیں۔

 مقامی اخبار کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں تقریباً 22 سے 24 لاکھ افراد کا گزر بسر ایرانی ڈیزل یا پیٹرول پر ہوتا ہے جس کی ترسیل مند سے حب چوکی تک کی جاتی ہے جبکہ گوادر شہر سمیت مختلف بارڈر کے علاقوں کی بجلی بھی ایران کے ذریعے آتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے ایران نہیں اسرائیلی حکومت نے خونریزی کا آغاز کیا، عباس عراقچی ایران اسرائیل جنگ میں امریکی شمولیت کا خدشہ، کیا خطہ جنگ کی لپیٹ میں آجائے گا؟

تفتان بارڈر کی بندش سے ملحقہ علاقوں میں اکثر پیٹرول پمپ بند ہیں اور جو کھلے ہوئے ہیں ان پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی ہیں، گوادر میں ایرانی پیٹرول 160 روپے سے 270 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکا ہے۔ 

بین الاقوامی ادارے انٹرنیشل انسٹیٹوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈی کی رپورٹ کے مطابق پورے پاکستان کا 35 فیصد ڈیزل ایران سے آتا ہے۔

جنگ جاری رہی تو خدشہ ہے کہ بلوچستان میں توانائی کے ساتھ بنیادی سہولتوں کا بھی بحران پیدا ہو جائے گا اور اس کا اثر کراچی پر بھی پڑ سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

پڑھیں:

کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر

محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔

تفصیلات کے مطابق  انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔

انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ،  پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔

اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے  www.seccap.dgcs..gos.pk  کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔

ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔

ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار