نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کا کہنا ہے کہ خواتین شناختی کارڈ پر اپنی مرضی سے والد یا شوہر کا نام درج کرواسکتی ہیں، شناختی کارڈ کی ضبطی، تنسیخ اور بحالی کے کیسز کا فیصلہ 30 دن میں ہوگا۔

نئے قواعد کے تحت شادی شدہ خواتین کو اب یہ سہولت فراہم کر دی گئی ہے کہ وہ شناختی کارڈ پر اپنی مرضی سے والد یا شوہر کا نام درج کرواسکتی ہیں۔

وزیر داخلہ کی ہدایت پر نادرا نے قومی شناختی کارڈ قواعد 2002 میں ترامیم کا نفاذ کردیا، نادرا نے اصلاحاتی مسودے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا جس کی منظوری وفاقی کابینہ دے چکی ہے۔

اعلامیے کے مطابق شناختی نظام کو جعل سازی سے پاک اور محفوظ بنانے کے اقدامات کیے گئے ہیں، نادرا نے بغیر چِپ والے کارڈ میں اسمارٹ کارڈ کی بیشتر خصوصیات شامل کردی ہیں، بغیر چِپ والے کارڈ پر اردو کے ساتھ انگریزی کوائف بھی درج ہوں گے، بغیر چِپ والے کارڈ پر کیو آر کوڈ درج ہوگا، اضافی فیس نہیں لی جائے گی، غلط معلومات پر کارڈ بنوانے والے رضاکارانہ طور پر اطلاع دیں تو قانونی تحفظ دیا جائے گا۔

نادرا کا کہنا ہے کہ ب فارم بنوانے کیلئے یونین کونسل میں پیدائش کا اندراج لازم ہوگا، 3 سال تک کے بچوں کیلئے بائیومیٹرک اور تصویر کی ضرورت نہیں ہوگی، 3 سے 10 سال کی عمر کے بچوں کی تصویر لازمی ہوگی، آئرِس اسکین بھی لیا جائے گا، 10 سے 18سال کے بچوں کےلیے تصویر، بائیومیٹرک اور آئرِس اسکین لازمی ہوگا، ہر بچے کو الگ ب فارم جاری کیا جائے گا جس پر میعاد بھی درج ہوگی، پہلے سے بنے ہوئے ب فارم منسوخ نہیں، پاسپورٹ بنوانے کیلئے نیا ب فارم لازم ہوگا، جعلی اندراج کی روک تھام اور بچوں کی اسمگلنگ کے موثر خاتمہ میں مدد ملے گی۔

فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (ایف آر سی) کو قانونی دستاویز کی حیثیت دے دی گئی ہے، درخواست دہندہ کو اس میں درج معلومات کی درستی کا اقرار نامہ دینا ہوگا، شہری اب صرف نادرا کے ریکارڈ کی بنیاد پر ایف آر سی حاصل کر سکیں گے، خاندان کے ان افراد کا اندراج بھی کروانا ہوگا جن کی تفصیلات ابھی تک جمع نہیں کروائی گئیں۔

نادرا کا کہنا ہے کہ شہری موبائل ایپ یا نادرا دفتر کے ذریعے اپنے خاندانی کوائف کی درستی کروا سکیں گے، ایک سے زیادہ شادیاں کرنے والے مردوں کے خاندان کے مکمل کوائف ایف آر سی میں درج ہوں گے۔

Post Views: 3.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: شناختی کارڈ کارڈ پر ب فارم

پڑھیں:

نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی

راولپنڈی:

ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔

متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔

والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔

قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔

متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار